مالک خانہ کے استفسار پر بجائے اس کے کہ سث بولے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے اس کی نظروں میں بڑا نفس کُش ثابت کرنے کے لیے جواب دیا کرتے ہیںکہ مجھے عذر ہے۔غرضیکہ اسی طرح کے بہت سے مخفی گناہ ہوتے ہیں جو اعمال کو تباہ کرتے رہتے ہیں۔ کبر اور نخوت امر اء کو کبر اور نخوت لگے رہتے ہیں جو کہ ان کے عملوں کو کھاتے رہتے ہیں۔اس لیی بعض غریب آدمی جن کو اس قسم کے خیالات نہیں ہوتے وہ سبقت لے جاتے ہیں۔ غرضیکہ ریاء وغیرہ کی مثال ایک چوہے کی ہے جو کہ اندر ہی اندر اعمال کو کھاتا رہتا ہے۔خدا تعالیٰ بڑا کریم ہے لیکن اس کی طرف آنے کے لیے عجز ضروری ہے۔جس قدر انانیت اور بڑائی کا خیال اس کے اندر ہوگا خواہ وہ علم کے لحاظ سے ہو، خواہ ریاست کے لحاظ سے۔خواہ مال کے لحاظ سے،خواہ خاندان اور حسب نسب کے لحاظ سے،تو اسی قدر پیچھے رہ جاویگا۔اسی لیے بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ سادات میں سے اولیاء کم ہوئے ہیں،کیونکہ خاندانی تکبر کا خیال ان میں پیا ہو جاتا ہے۔قرونِ اولیٰ کے بعد جب یہ خیال پیدا ہوا تو یہ لوگ رہ گئے۔ اس قسم کے حجاب انسان کو بے نصیب اور محروم کر دیتے ہیں۔بہت ہی کم ہیں جو ان سے نجات پاتے ہیں۔امارت اور دولت بھی ایک حجاب ہوتا ہے۔امیر آدمی کو کوئی غریب سے غریب اور ادنیٰ آدمی السلام علیکم کہے تو اُسے مخاطب کرنا اور وعلیکم السلام کہنا اس کو عار معلوم ہوتا ہے اور خیال گذرتا ہے کہ یہ حقیر اور ذلیل آدمی کب اس قابل ہوتاہے کہ ہمیں مخاطب کرے۔اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ غریب امیروں سے پانصد سال پیشتر جنت میں جاویں گے۔ہمیں معلومنہین کہ اس حدیث کے معانی کیا ہیں،لیکن ہم ان الفاظ پر ایمان لاتے ہیں۔اس کا ایک باعث یہ بھی ہے کہ غریبوں کا تزکیۂ نفس قضاء قدر نے خود ہی کیا ہوتا ہے۔ حصولِ فضل کی راہیں یاد رکھوکہ خدا تعالیٰ کے فضل کے حاصل کرنے کے دوراہ ہیں۔ایک تو زُہد نفس کشی اور مجاہدات کے ہے اور دوسرا قضاء وقدر کا۔لیکن مجاہدات سے اس راہ کا طے کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ اس میں انسان کو اپنے ہاتھ سے اپنے بدن کو مجروح اور خستہ کرنا پڑتا ہے۔عام طبائع بہت کم اس پر قادر ہوتی ہیں کہ وہ دیدہ و دانستہ تکلیف جھیلیں۔لیکن قضاء و قدر کی طرف سے جو واقعات اور حادثات انسان پر آکر پڑتے ہیں وہ ناگہانی ہوتے ہیں اور جب آپڑ تے ہیں تو قہرِ دردیش برجان درویش ان کو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے جو کہ اس کے تزکیۂ نفس کا باعث ہو جاتا ہے جیسے شہداء کو دیکھو کہ جنگ کے بیچ میں لڑتے لڑتے جب مارے جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے