بھر آیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گیا۔روتا جاتا تھا اور گناہوں کی مغفرت کی دعا بھی کرتا جاتا تھا۔اس کی اس حالت کو جناب حکیم نورالدین صاحب نے دیکھ کر عرض کی کہ ایسے ہی مذنب ہیں جنکو خدا تعالیٰ بخش دیتا ہے۔اس پر سلسلہ کلام چل پڑا اور حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر شروع کی۔
فرمایا کہ :
ذنوب آدمی کو اسی لیے قُرب بخشتے ہیں بشرطیکہ ساتھ توبہ اور استغفار بھی ہو اور یہی وجہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے خطا اور صغائر میں انبیاء کو بھی شریک کر دیا ہے تاکہ قربِ الٰہی کے مراتب میں وہ ترقی کر سکیں۔فرقہ ملامتی کو میں پسند نہیں کرتا، کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ پر غیر کے وجود کو بڑا خیال کرتے ہیں اور اپنے اعمالِ صالحہ کو پوشیدہ رکھ کر مخلوق کو نظروں میں مُتّہَم (جائے تہمت) ہونا چاہتے ہیں۔یہ اُن کی غلطی ہے۔دوسرے وجود کو تو لاشئی خیال کرنا چاہیے اور کسی کے ضرر اور نفع پر نظر ہرگز نہ رکھنی چاہیے۔نہ کسی کی مدح سے پھولے اور دل میں خوش ہو اور نہ کسی کی ذم سے رنجیدہ خاطر ہو۔سچے موحد وہی ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے وجود کو کوئی شئے خیال نہیں کرتے اور یہی وجہ ہیکہ فرقۂ ملامتی اس توحید سے گرا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ نے مومنوں کی صفت فرمائی ہے۔
لا یخافون لو مۃ لائم (المائدۃ : ۵۵)
کہ وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں خوف کھاتے اور صرف اپنے مولا کی رضا مندی کو مقدم رکھتے ہیۃ۔
مومن ایک لا پروا انسان ہوتا ہے۔اُسے صرف خدا تعالیٰ کی رضا مندی کی حاجت ہوتی ہے اور اسی کی اطاعت کو وہ ہر دم مد نظر رکھتا ہے،کیونکہ جب اس کا معاملہ خدا سے ہے تو پھر اُسے کسی کے ضرر اور نفع کا کیا خوف ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کے مقابل کسی دوسرے کے وجود کو دخل دیت اہے،تو ریاء اور عجب وغیرہ معاصی میں مبتلا ہوت اہے۔یاد رکھو کہ یہ دخل وہی ایک زہر ہے اور کلمہ لاالہ الا اﷲ کے اول جزو لاالہ میں اس کی بھی نفی ہے،کیونکہ جب انسنا کسی انسان کی خاطر خدا تعالیٰ کے ایک حکم کی بجا آوری سے قاصر رہتا ہے تو آخر اُسے خد اکی کسی صفت میں شریک کرتا ہے تبھی تو قاصر رہتا ہے اس لیے لا الہ کہتے وقت اس قسم کے معبودوں کی بھی نفی کرتا ہے۔
صوفیوں نے اس قسم کے ملامتی لوگوں کے بہت سے قصے لکھے ہیں۔امام غزالی (علیہ الرحمۃ) نے بھی لکھا ہے کہ آجکل کے فقراء ریاکار ہوتے ہیں۔تن کی آسانی کو مد نظر رکھ کر موٹے جھوٹے کپڑے تو پہنتے نہیں اس لیے باریک کپڑوں کو گیرویاسبز رنگ لیتے ہیں اور اُن کے جبے پہن کر اپنے کو فقراء مشہور کرتے ہیں۔مقصود ان کا یہ ہوت اہے کہ لوگوں سے متمیز ہوں اور عوام الناس خصوصیت سے اُن کی طرف دیکھیں۔پھر روزہ داروں کا ذکر لکھا ہے کہ کوئی روزہ دار مولوی کسی کے ہاں جاوے اور اُسے مقصود ہو کہ اپنے روزہ کا اظہار کرے تو