فرمایا کہ :
جماعت کے ٹکڑے الگ الگ نہ ہونے چاہئیں بلکہ اکٹھی پڑھنی چاہیے۔ہم بھی وہاں ہی پڑھیں گے۔یہ اس صورت میں ہونا چاہیے جبکہ جگہ کی قلت ہو۔
(۳) ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب گورداسپور میں مقیم تھے اور احمدی جماعت نزیل قادیان بہ باعث سفر میں ہونے کے نماز جمع کر کے ادا کرتی تھی۔ڈاکٹر صاحب نے مسئلہ پوچھا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ؍
مقیم پوری نماز ادا کریں
وہ اس طرح ہوتی رہی کہ جماعت کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نماز ادا کرتے۔جماعت دو رکعت ادا کرتی ،لیکن ڈاکٹر صاحب باقی کی دو رکھعت بعد از جماعت ادا کر لیتے۔ایک دفعہ حضرت اقدس نے دیکھ کر ڈاکٹر صاحب نے ابھی دو رکعت ادا کرنی ہے۔فرمایا کہ :
ٹھہر جائو۔ڈاکٹر صاحب دو رکعت ادا کر لیویں
پھر اس کے بعد جماعت دوسری نماز کی ہوئی۔ایسی حالت جمع میں سنت اور نوافل ادا نہیں کیے جاتے۔
(۴) حضرت مسیح موعودؑ کھڑے ہوئے تھے۔آپ نے پانی مانگا۔جب پانی آیا تو اُسے بیٹھ کر آپ نے پیا اور بھی کئی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ پانی وغیرہ آپ ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیتے ہیں۔؎ٰ
۱۷؍اگست ۱۹۰۴ء بمقام قادیان۔بوقت شام
صوفیا کا ملامتی فرقہ اور ریاء
شام کی نمازکے بعد چند ایک احباب نے بیعت کی۔ان میں ایک صاحب ایسے تھے جو کہ اپنے زمانہ جہالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت الفاظی سے یاد کرتے اور بہت ہی بُِرا بھلا کہتے تھے۔وہ اپنی ان خطائوں کی معفی حضرت اقدس علیہ السلام سے طلب کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ توبہ کے بعد اﷲ تعالیٰ سب گناہ بخش دیتا ہے۔اس اثناء میں اس تائب کا دل اپنے گناہوں کو یاد کرکے