نبی اور اجتہادی غلطی
انبیاء کے دشمنوں کے دو گروہ ہوتے ہیں ایک وہ جو اُن کے مکذب ہوتے ہیں۔دوسرے وہ جو اُن کو خدا مانتے ہیں۔اہلِ اسلام کا عقیدہ جو مسیح ؑکے دوبارہ آنے کا ہے وہ اسی قسم کا ہے کہ یہ لوگ اُن کے مکذب تو نہیں ہیں، لیکن ان کو خدا ضرور مانتے ہیں کہ ہر ایک اس کی صفت میں اُسے شریک کیا ہوا ہے؛ حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ بعض وقت نبی کو اجتہاد اور تفہیمِ الہام میں غلطی ہو جاتی ہے۔یہ غلطی اگر احکا م دین کے متعلق ہو تو اُن کو فوراً متنبہ کیا جاتا ہے۔لیکن دوسرے امور میں ضروری نہیں کہ وہ اطلاع دیئے جاویں۔پس اس لیے یہ بات ممکن ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اُن کے دوبارہ آنے کے بارے میں جو الہامات ہوئے خود انہوں نے بھی اسے حقیقی معنوں پر حمل کر لیا ہو کیونکہ ان کا مخطی ہونا تو ثابت ہے،اس لیے انجیلوں میں ان کا یہ فقرہ نقل ہوا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اس زمانہ کے لوگ زندہ ہوں گے کہ میں دوبارہ آجائوں گا۔اس قسم ک ی اجتہادی غلطی کا امکان ہر ایک نبی سے ہے۔اب دیکھو کہ مسیح علیہ السلام سے تو ایک اجتہادی غلطی ہوئی لیکن دوسروں کو کس قدر وبال آیا۔اگر ان مسلمانوں کو یہ سمجھ ہوتی تو وہ دوسرے نبیوں سے ان کو کیوں زیادہ مرتبہ دیتے۔مسلمانون پر یہ بات لازم نہیں ہے کہ وہ انجیل کے الفاظ پر ضرور اَڑ یں۔مسیح علیہ السلام کو یہ خاص عزت دیں کہ وہ محطی نہیں یہ تو اسلام سے خارج ہونا ہے۔
چند فقہی مسائل
سفر گورداسپور میں نماز کے متعلق ذیل کے مسائل میری موجود گی میں حل ہوئے۔ (ڈائری نویس)
(۱) ایک مقام پر دو جماعتیں نہ ہونی چاہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت اقدس ابھی وضو فرما رہے تھے اور مولانا محمد احسن صاحب بوجہ علالتِ طبع نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔اُن کا خیال تھا کہ میں معذور ہوں الگ پڑھ لُوں،مگر چند ایک احباب ان کے پیچھے مقتدی بن گئے اور جماعت ہو گئی۔جب حضرت اقدس کو علم ہوا کہ ایک دفعہ جماعت ہو چکی ہے اور اب دوسری ہونے والی ہے۔
تو آپ نے فرمایا کہ :
ایک مقام پر دو جماعتیں ہرگز نہ ہونی چاہئیں
(۲) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور اقدس اپنی کوٹھڑی میں تھے اور ساتھ ہی کوٹھڑی میں نماز ہونے لگی۔آدمی تھوڑے تھے۔ایک ہی کوٹھڑی میں جماعت ہو سکتی تھی۔بعض احباب نے خیال کیا کہ شاید حضرت اقدس اپنی کوٹھڑی میں نماز ادا کرلیں گے،کیونکہ امام کی آواز وہاں پہنچتی ہے۔اس پر آپؑ نے