عذاب اور فسق ایک تحصیلدار صاحب نے گورداسپور میں عرض کی کہ تجربہ ہوا ہے کہ خاص طاعون کے دنوں میں فسق بڑھ جاتا ہے؛ چنانچہ ایک گھر میں پے در پے طاعون سے موتیں ہوتی رہیں اور اس کے ستھ ہی دیوار بہ دیوار ایک شخص ایک ہفتہ زنا کاری میں مبتلا رہا ۔فرمایا کہ : قرآن شریف سے بھی ایسا ثابت ہے جیسے کہ امرنا متر فیہا ففسقو افیہا فحق علیہا القول فدمر نھا تدمیرا (بنی اسرائیل : ۱۷) یعنی جب اس قسم کے عذاب نازل ہوتے ہیں تو فاسقوں کو ڈھیل دی جاتی ہے کہ وہ جی بھر کر فسق کر لیں۔پھر ان کو ایک ہی دفعہ ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ لذاتِ دینوی میں انہماک خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروہ ہیں جو حیاتِ دنیا پر راضی ہو گئے اور اطمینان پا گئے ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف حرکت کی ضرورت کو وہ بالکل محسوس ہی نہیں کرتے فلا نقیم لہم یوم القیامۃ وزنا (الکہف : ۱۰۶) میں گناہ کا ذکر نہیں ہے۔اس کا باعث پرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے دنیا کی خواہشوں کو مقدم رکھ اہوا تھا۔ایک اور جگہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ دنیا کا حظ پا چکے ۔وہاں بھی گناہ کا ذکر نہیں بلکہ دنای کی لذات جن کو خدا تعالیٰ نے جائز کیا ہے۔اُن میں منہمک ہو جاتے کا ذکر ہے۔اس قسم کے لوگوں کا مرتبہ عند اﷲ کچھ نہ ہوگ ااور نہ اُن کو عزت کا مقام دیا جائے گا۔شیریں زندگی اصل میں ایک شیطان ہے جو کہ انسان کو دھوکا دیتی ہے۔مومن تو خود مصیبت خریدتا ہے؛ ورنہ اگر وہ مداہنہ برتے تو ہر طرح آرام سے رہ سکتا ہے۔آنحضرت ﷺ اگر اس طرح کرتے تو اس قدر جنگیں کیوں ہوتیںک،لیکن آپؐ نے دین کو مقدم رکھااس لیے سب دشمن ہو گئے۔ حسنِ نیت ملازمت پیشہ لوگوں کو عبادت کا بڑا کم وقت ملتا ہے اور وہ دینی خدمات سے بھی محروم رہتے ہیں۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کی زندگی آرام میں گذرتی ہے۔تلخ زندگی کا اُن کو موقعہ ہی نہیں آتا۔فرمایا کہ : وہ بھی ایک تلخی کا حصہ ہے،کیونکہ معاش کے لیے کرتا ہے اس لیے عبادت کا ثواب پاتا ہے۔نیک نیتی سے اگر انسان چلے اور نیت یہ ہو کہ بال بچوں کی پرورش اس لیی کرتا ہوں کہ وہ خادمِ دین ہوں تو اس پر بھی اُسے ثواب ملتا ہے۔