پڑا اور ثواب سے بھی محروم رہا۔ سلسلہ کا مستقبل مجھے بڑے ہی کشفِ صحیح سے معلوم ہوا ہے کہ ملوک بھی اس سلسلہ میں داخل ہوں گے۔یہانتک کہ وہ ملوک مجھے دکھائے بھی گئے ہیں۔وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔اور یہ بھی اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں تجھے یہانتک برکت دوں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اﷲ تعالیٰ ایک زمانہ کے بعد ہماری جماعت میں ایسے لوگوں کو داخل کرے گا اور پھر اُن کے ساتھ ایک دنیا اس طرف رجوع کرے گی۔؎ٰ آدابِ دعا دعا میں جس قدر بیہودگی ہوتی ہے اسی قدر اثر کم ہوتاہے۔یعنی اس کی استجابت ضرورتی نہیں سمجھی جاتی۔مثلاً ایک شخص ہے کہ اس کا گذارہ ایک دوروپیہ روزانہ میں بخوبی چل سکتا ہے لیکن وہ پچاس روپیہ روزانہ طلب کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اس کا سوال بیہودہ ہوگا۔یہ ضروری امر ہے کہ ضرورتِ حقہ اﷲ تعالیٰ کے آگے پیش کی جاوے۔جب کسی کی مصیبت کا خط آتا ہے اور اس میں دعا کی درخواست ہوتی ہے تو دیھکا گیا ہے کہ دل خوب لگ کر دعا کرتا ہے،لیکن دوسری بیہودہ درخواستوں میں قدر دل نہیں لگتا۔ عام لوگ جو آجکل دفعِ طاعون کے لیے دعا مانگتے ہیں اس پر آپ نے فرمایا کہ : اس وقت اﷲ تعالیٰ اپنی ذات کو منوانا چاہتا ہے۔نری دعا سے کای فائدہ ہو سکت اہیجبتک کہ عقائد کی اصلاح نہ ہو۔ایسی دعائیں کیا بُت پرست نہیں مانگتے؟ پھر اُن میں اور اِن میں فرق کیا ہوا؟ بلکہ مجھے میال آتا ہے۔ واذا سالک عبادی عنی فانی قریب (البقرۃ : ۱۸۷) کے یہی معنی ہیں کہ اگر سوال ہو کہ خدا کا علم کیونکر ہوا تو جواب یہ ہے کہ اسلام کا خد ابہت قریب ہے۔اگر کوئی اسے سچے دل سے بلات اہے،تو وہ جواب دیت اہے۔دوسرے فرقوں کے خدا قریب نہیں ہیں بلکہ اس قدر دور ہیں کہ اس کا پتہ ہی ندارد۔اعلیٰ سے اعلیٰ غرض عابد اور پرستار کی یہی ہے کہ اس کا قُرب حاصل ہو اور یہی ذریعہ ہے جس سے اس کی ہستی پر یقین حاصل ہوتا ہے اجیب دعوۃ الداع اذا دعان (البقرۃ : ۱۸۷) کے بھی یہی معنی ہیں کہ وہ جواب دیتا ہے گونگا نہیں ہے۔دوسرے تمام دلائل اس کے آگے ہیچ ہیں۔کلام ایک ایسی شئے ہے جو کہ دیدار کے قائمقام ہے۔