رافعک الی کے معنی کرتے ہیں کہ مسیح جسم سمیت آسمان پر چڑھ گیا تو وہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا یہود کی یہ غرض تھی؟ اور وہ یہ کہتے تھے کہ مسیح آسمان پر نہیں چڑھا؟ اُن کا اعتراض تو یہ تھا کہ مسیح کا رفع الی اﷲ نہیں ہوا۔اگر رافعک الی اس اعتراض کا جواب نہیں تو پھر چاہیے کہ اس اعتراض کا جواب دیا اور دکھایا جاوے۔
مرکز میں آنے کی اصل غرض دین ہو
ایک مرتبہ کسی نے کہا کہ میں تجارت کے لیے یہاں آنا چاہتا ہوں۔ فرمایا :
یہ نیت ہی فاسد ہے۔اس سے توبہ کرنی چاہیے۔یہاں تو دین کے واسطے آنا چاہیے۔اور اصلاح عاقبت کے خیال سے یاہں رہنا چاہیے۔نیت تو یہی ہو۔اور اگر پھر اس کے ساتھ کوئی تجارت وغیرہ یہاں رہنے کے اغراض کو پورا کرنے کے لیی ہو تو حرج نہیں ہے۔اصل مقصد دین ہو نہ دینا۔کیا تجارتوں کے لیے شہر موزوں نہیں؟ یہاں آنے کی اصل غرض کبھی دین کے سوا اور نہ ہو۔پھر جو کچھ حاصل ہو جاوے وہ خدا تعالیٰ کا فضل سمجھو۔
ہمدردیٔ خلائق
بنی نوع انسان کی ہمدردی خصوصاً اپنے بھائیوں کی ہمدردی اور حمایت پر نصیحت فرماتے ہوئے ایک موقعہ پر فرمایا کہ :
میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو درد ہوت اہو اور میں نماز میں مصروف ہوں’میرے کان میں اس کی آواز پہنچ جاوے تو میں تو یہ چاہتا ہوں کہ نماز تور کر بھی اگر اس کو فائدہ پہنچاسکتا ہوں تو فائدہ پہنچائوں اور جہاں تک ممکن ہے اس سے ہمدردی کروں۔یہ اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی بھائی کی مصیبت اور تکلیف میں اس کا ساتھ نہ دیا جاوے۔اگر تم کچھ بھی اس کے لیے نہیں کرسکتے تو کم از کم دعاہی کرو۔
اپنے تو درکنار میں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوئوں کے ساتھ بھی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھائو اور اُن سے ہمدردی کرو۔لا ابالی مزاج ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
ایک مرتبہ میں باہر سیر کو جارہا تھا۔ایک پٹواری عبد الکریم میرے ساتھ تھا۔وہ ذرا آگے تھا اور میں پیچھے۔راستہ میں ایک بڑھیا کوئی ۷۰ یا ۷۵ برس کی ضعیفہ ملی۔ اس نے ایک خط اُسے پڑھنے کو کہا مگر اُس نے اُسے جھڑکیاں دے کر ہٹا دیا۔میرے دل پر چوٹ سی لگی۔اس نے وہ خط مجھے دیا ۔میں اُس کو لے کر ٹھہر گیا اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا اس پر اسے سخت شرمندہ ہونا پڑا۔کیونکہ ٹھہرناتو