قبولیت دعا کے آثار
جب اﷲ تعالیٰ کا فضل قریب آتا ہے تو وہ دعا کی قبولیت کے اسباب پہنچا دیتا ہے۔دل میںایک رقت اور سوز و گداز پیدا ہو اجت اہے،لیکن جب دعا کی قبولیت کا وقت نہیں ہوتا،تو دل میں اطمینان اور رجوع پیدا نہیں ہوتا۔طبیعت پر کتانا ہی زور ڈالو مگر طبیعت متوجہ نہیں ہوتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی خدا تعالیٰ اپنی قضاوقدر منوانا چاہتا ہے اور کبھی دعا قبول کرتا ہے۔اس لیے میں تو جبتک اذنِ الٰہی کے آثار نہ پالوں قبولیت کی کم اُمید کرتا ہوں اور اس کی قضاو قدر پر اس سے زیادہ خوشی کے ساتھ جو قبولیت دعا میں ہوتی ہے راضی ہو جاتا ہوں، کیونکہ اس رضا بالقضاء کے ثمرات اور برکات اس سے بہت زیادہ ہیں۔
خدا تعالیٰ اعمالِ صالحہ کو چاہتا ہے
اﷲ تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا۔وہ تو روحانیت اور مغز کو قبول کرتا ہے۔اس لیے فرمایا
لن ینال اﷲ لحومہا ولا وما ؤ ھا ولکن ینا لہ التقوی منکم (الحج : ۳۸)
اور دوسری جگہ فرمایا
انما یتقبل اﷲ من المتقین (المائدۃ : ۲۸)
حقیقت میں یہ بڑی نازک جگہ ہے۔یہاں پیغمبر زادگی بھی کام نہیں آسکتی۔آنحضرت ﷺ نے فاطمہ ؓ سے بھی ایسا ہی فرمایا۔قرآن شریف میں بھی صاف الفاظ میں فرمایا :
اناکرمکم عند اﷲ اتقکم (الحجرات : ۱۴)
یہودی بھی تو پیغمبر زادے ہیں۔کیا صدہا پیغمبر اُن میں نہیں آئے تھے مگر ا س پیغمبرزادگی نے اُن کو کیا فائدہ پہنچایا۔اگر اُن کے اعمال اچھے ہوتے تو وہ ضربت علیھم الذلۃ والمسکنۃ (البقرۃ : ۶۲)
کے مصداق کیوں ہوتے۔خدا تعالیٰ تو ایک پاک تبدیلی کو چاہتا ہے۔بعض اوقات انسان کو تکبر نسب بھی نیکیوں سے محروم کر دیتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں اسی سے نجات پالو ں گا، جو بالکل خیال خام ہے۔کبیرؔ کہتا ہے کہ اچھا ہوا میں نے چماروں کے گھر جنم لیا۔
کبیرؔ اچھا ہوا ہم نیچ بھئے سب کو کریں سلام
خدا تعالیٰ وفاداری اور صدق کو پیار کرتا ہے اور اعمالِ صالحہ کو چاہتا ہے۔لاف وگزاف اُسے راضی نہیں کر سکتے۔
رفع عیسیٰ علیہ السلام
فرمایا :
قرآنِ شریف تو رفعِ اختلاف کے لیے آیا ہے۔اگر ہمارے مخالف