لوگوں کو کثرت سے آپ کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ کسی مہمان کو (خواہ وہ سلسلہ میں داخل ہو) ذرا سی بھی تکلیف حضور کو بے چین کر دیتی ہے۔مخلصین احباب کے لیے تو اور بھی آپ کی روح میں جوشِ شفقت ہوتا ہے۔اس امر کے اظہار کے لیے ہم ذیل کا ایک واقعہ درج کر دیتے ہیں :
میاں ہدایت ال صاحب احمدی شاعر لاہور پنجاب جو کہ حضرت اقدس کے ایک عاشق صادق ہیں۔اپنی اس پیرانہ سالی میں بھی چند دنوں سے گورداسپور آئے ہوئے تھے۔آج انہوں نے رُخصت چاہی۔جس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ :
آپ جا کر کیا کریں گے۔یہاں ہی رہیے اکٹھے چلیں گے۔آپ کا یہاں رہنا باعثِ برکت ہے۔اگر کوئی تکلیف ہو تو بتلادو اس کا انتظام کر دیا جاوے گا۔
پھر اس کے بعد آپ نے عام طو رپر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ
چونکہ آدمی بہت ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی کی ضرورت کا علم (اہلِ عملہ کو) نہ ہو۔اس لیے ہر ایک شخص کو چاہیے کہ جس شے کی اُسے ضرورت ہو وہ بلا تکلّف کہدے۔اگر کوئی جان بوجھ کر چھپاتا ہے،تو وہ گنہگار ہے۔ہماری جماعت کا اصول ہی بے تکلفی ہے۔
بعد ازیں حضرت اقدس نے میاں ہدایت اﷲ صاحب کو خصوصیت سے سید سرور شاسہ صاحب کے سپرد کیا کہ ان کی ہر ضرورت کو وہ بہم پہنچاویں۔
سکھ مذہب اور عیسائیت
کل شام کو بعد از نماز مغرب دونو جوان اکائونٹنٹ جنرل آفس لاہور کے کلارک جن میں سے ایک صاحب ۔مسلمان تھے اور ایک عیسائی حضرت کی ملاقات کے لیے تشریف لائے؛ چونکہ مسلمان صاحب کا تعارف جناب مفتی محمد صادق صاحب سپرنٹنڈنٹ تعلیم الاسلاہائی سکول قادیان سے تھا۔اس لیے مفتی صاحب نے ان کو حضرت اقدس سﷺے انٹروڈیوس کیا۔مختصر احالات کے استفسار کے بعد حضور عیسائی نوجوان کی طرف متوجہ ہوئے۔معلوم ہوا کہ اول یہ سکھ مذہب کے تے اور ان کے والد عیسائی تھے۔اس پرحضرت اقدس نے فرمایا کہ آج کل اگر دنیا کے خدا گنے جاویں ایک ضخیم کتاب طیار ہوتی ہے،لیکن تعجب کہ سکھ جیسے مذہب کو چھوڑ کر جس میں توحید کی تعلیم ہے آپ نے عیسائی مذہب کو کیسے پسند کیا۔اس کے بعد متفرق طور پر مزاج پُِرسی وغیرہ ہوتی رہی۔اور