۲۱؍جولائی ۱۹۰۴ء؁ بمقام گورداسپور ترکِ گناہ ایسی ہوا چلی ہے کہ گناہ کا چھوڑ نا عیب خیال کرتے ہیں۔اور جب کوئی گناہ کو چھوڑ نا چاہتا ہے تو اُسے ایک حسرت ہوتی ہے کہ اب یہ ہاتھ سے گیا۔اگر خدا تعالیٰ کی عظمت کو مد نظر رکھ کر بھی ترکِ گناہ کیا جاوے تو بھی اس کا بوجھ ہلکا ہو جاوے، لیکن اس کا خیال کسے ہے۔ ۳؎ ۲۵؍جولائی ۱۹۰۴ء؁ بمقام گورداسپور تعظیمِ قبلہ سوال ہوا کہ اگر قبلہ شریف کی طرف پائوں کر کے سویا جاوے تو جائز ہے کہ نہیں؟ فرمایا کہ: یہ ناجائز ہے کیونکہ تعظیم کے برخلاف ہے۔ سائل نے عرض کی کہ احادیث میں اس کی ممانعت نہیں آئی۔فرمایا کہ : یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔اگر کوئی اسی بناء پر کہ حدیث میں ذکر نہیں ہے اور اس لیے قرآن شریف پر پائوں رکھ کر کھڑا ہوا کرے، تو کیا یہ جائز ہو جاوے گا؟ ہرگز نہیں۔ ۴؎ ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقوی القلوب (الحج : ۳۳) ۲۶؍جولائی ۱۹۰۴ء؁ بمقام گورداسپور اکرامِ ضیف اعلیٰ حجۃاﷲ مسیح موعود ؑ مہمان نوازی کا رسول اﷲ ﷺ کی طرح اعلیٰ اور زندہ نمونہ ہیں۔جن