صرف و نحو سے واقفیت نہیں۔
منشی صاحب نے کہا کہ میں نے صرف ونحو کو خوب پڑھا ہے۔فرمایا :
موجودہ مروجہ صرف و نۃو ناقص ہے اور آپ نے صرف و نحو کو کمال تک بھی نہیں پہنچایا۔ہر ایک زبان کا ایک خاص محاورہ ہوتا ہے۔جبتک انسان کی مادری زبان نہ ہو یا اس زبان میں اتنا کمال نہ ہو کہ مشبہ بہ مادری ہو جاوے، تب تک وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔پس اس امر کو زبان کے واقفوں سے دریافت کرو۔اور دیکھو قومی محاورات میں کوئی اہل علم اعتراض نہیں کرسکتا۔
پھر سوال کیا کہ بعض لفظ لکھنے میں آتے اور پڑھنے میں نہیں آتے۔فرمایا :
انگریزی زبان ہی کو لے لو اس میں بھی بہت سے ایسے حروف ہیں جو لکھنے میں تو آتے ہیں پڑھنے میں نہیں آتے۔میں پھر یہی کہوں گا کہ آپ کو صرف ونحو کی واقفیت بالکل نہیں۔یہ باتیں عمر کھاکے حاصل ہوتی ہیں۔آپ کی عمر اس وقت آرام چاہتی ہے اور خیال آپ کو یہ لگ گیا ہے۔پھر مجھے اس بات کا بھی ڈر ہے کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ مجھے قرآن کی خدمت سے روک دیا ہے۔بہر حال میں تو پھر بھی یہی کہوں گا اور بطور نصیحت کہوں گا کہ راحت سے زندگی بسر کرو۔آپ کا ریئہ بہت خراب ہیکوئی۔مہلک بیماری نہ ہو جاوے۔ہاں ان لوگوں کے واسطے دعا کر چھوڑو کہ اﷲ تعالیٰ ان کو ہدایت دیوے۔ااور قرآن سمجھنے کی ہر ایک کو توفیق دیوے۔مخلوق کے تم ٹھیکیدارنہیں۔اپنے آپ کو مشکلات میں نہ ڈالو اور نہ تمہارے قویٰ خدا تعالیٰ نے اس لائق بنائے ہیں۔میں تو ہمیشہ آپ کو یہی کہوں گا اور یہی نصیحت کروں گا۔آئندہ آپ کو اختیار ہے۔والسلام۔
عرش کی حقیقت
عرش کے متعلق سوال ہوا۔آپ نے اپنی تقریر کے اس حصہ کا اعادہ فرمایا جو کہ قبل ازیں کئی دفعہ شائع ہو چکی ہے۔اور فرمایا کہ :
عر ش کی نسبت مخلوق اور غیر مخلوق کا جھگڑا عبث ہے۔احادیث سے اس کے جسم کہو تو پھر خد اکو بھی مجسّم کہنا چاہیے یاد رکھنا چاہیے کہ اس کو علّو جسمانی نہیں کہ جس کا تعالق جہات سے ہو بلکہ یہ روحانی علّو ہے۔
عرش کی نسبت مخلوق اور غیرمخلوق کی بحث بھی ایک بدعت ہیجو کہ پیچھے ایجاد کی گئی۔صحابہؓ نے اس کو مطلق نہیں چھیڑا ۔تو اب یہ لوگ چھیڑ کر نافہم لوگوں کو اپنے گلے ڈالتے ہیں۔لیکن عرش کے اصل معنے اس وقت سمجھ میں آسکتے ہیں جبکہ خدا تعالیٰ دوسری تمام صفات پر بھی ساتھ ہی نظر ہو۔؎ٰ