کل یعمل علی شا کلتہ (بنی اسرائیل : ۸۵)
ہر شخص کرتا اور کر سکتا ہے،مگر اپنی بناوٹ پر۔مثلاً ایک شخص کو تھوڑا ہی صدمہ دیکھ کر غشی لاحق ہو جاتی ہے۔اب اس کو میدان جنگ میں تلوار دے کر بھیجا جاتا ہے کیا وہ صرف بندوقوں کی آوازیں سنکر ہی نہ مر جاوے گا۔میں نے خود قادیان میں ایک شخص کو دیکھا ہے کہ اگر وہ بکرا ذبح ہوتا ہوا دیکھ لیتا ہے تو اس کو غش ہو جات تو اگر قصاب کا اکم اس کے سپرد کای اجتا تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا؟ آپ ارادہ کرتے ہیں اختلاف مٹانے کا اور دماغ اور رئیہ آپ کا بہت خراب ہے۔ایسا نہ ہو کہ بیماری مہلک ہو کر تمہارے اندر ہی اختلاف پیدا ہو جاوے۔انسانی قویٰ تو بیشک ہر شخص کو ملے ہیں۔مگر مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ دھوکہ نہیں کھاتا۔پس آپ پر ا سمحنت کا پہلے بد اثر ہو چکا ہے۔آپ کم سے کم پہلے تمام ڈاکٹروں سے دریافت کر لیں کہ آپ اس محنت کے قابل ہیں یا نہیں۔میں تو بمصداق المستشار موتمن کے ایک امین اور مشفق ناصح ہو کر آپ کو صلاح دیت اہوں کہ آپ کے قویٰ ایسے نہیں ہیکہ اس محنت کو برداشت کر سکیں۔دوزخ کے ساتھ دروازے ہیں اور بہشت کے آٹھ۔جس رنگ سے اﷲ تعالیٰ چاہیے یقین عطا فرما دیوے۔صحابہ کرامؓ نے علوم فلسفہ وغریہ کہاں پڑھے تھے۔جو اسرارِ الٰہی طبعیات اور فلسفہ وغیرہ میں بھرے پڑے ہیں جو شخ ان سب کو طے کرنا چاہتا ہے وہ جاہل اور بے نصیب رہے گا مثلاً آگ گرم او رمہلک ہے۔اس بات کو تو ہر شخص دریافت کر سکتا ہے پر جب اس کے دل میں یہ سوال پید اہو گا کہ کیوں گرم ہے اور کیوں مہلک ہے تو یہاں فلسفہ ختم ہو جاوے گا۔پس اسرارِ الٰہیہ کو حد تک کوئی نہیں پہنچا سکتا ؎
تو کارِ زمیں کے نکو ساختی
کہ با آسماں نیز پر داختی
پہلے ضرور ہے کہ اپنے گھر اور نفس کی صفائی کرو بعد میں لوگوں کی طرف توجہ کرنا۔
دنیا میں چار موٹی باتیں ماننے کے قابل ہیں۔(۱)ملائکہ،(۲)روحِ انسانی اور اس کا بقا بعد از مرگ۔(۳)جنات کا وجود۔(۴) خد اتعالیٰ کا وجود۔لوگوں نے سب سے پہلے جنات کا انکار کیا۔پھر ملائکہ کا۔پس دو باتوں کو اُڑا کر اپنی اور خدا کی روح کے قائل ہو بیٹھے یعنی کچھ کرنا اور کچھ نہ کرنا
افتو منون ببعض الکتاب وتکفرون ببعص (بقرہ : ۸۶)
اس میں پھر دہریوں نے ہی کمال کیا ہے کہ کچھ بھی نہ مانو اور سب کا انکار کرو۔
منشی صاحب مذکور نے سوال کای کہ قرآنِ کریم میں بہت سارے لفظ زائد ہوتے ہیں اور ان کے معنی نہیں کئے جاتے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔فرمایا :
قرآن کریم بلکہ ہر زبان میں قرائن ہوتے ہیں اور یہ ایسے بہت سارے محاورے ہوتے ہیں ۔آپکو