مگر جبتک انسان موجود ہے ان چیزوں کی اشد ضرورت ہے۔پانی اور ہوا میں بھی کیڑے ہیں۔پھلوں اور اناجوں میں بھی کیڑے ہیں۔جن کے بغیر انسان کبھی زندہ نہیں رہ سکتا۔پس یا تو تناسخ مانو یا خد اتعالیٰ کی حکمت مانو،مگر چونکہ انسان کا ان چیزوں کے سوائے گذرہ ہرگز نہیں ہوسکتا ہے۔معلوم ہوا کہ یہ ساری پیدائش حکمتِ الٰہی پر مبنی ہے؎ٰ۔والسلام۔
۱۸؍جولائی ۱۹۰۴ء بمقام گورداسپور
کل یعمل علی شا کلتہ
مہر نبی بخش المعروف عبد العزیز نمبردار بٹالہ نے عرض کیا کہ میں علاقہ بار سے صرف اس خیال پر آیا ہوں کہ ایک تفسیر قرآن لکھوں جس سے لوگوں کے شکوک اور غلط معانی کی اصلاح کروں۔اگر آپ مجھے امداد دیں تو میں موجودہ ثابت شدہ فلسفہ کے مطابق ترجمہ کر کے دکھلائوں۔
فرمایا :
ہمارا مشرب تو کسی سے نہیں ملتا۔ہم تو جو کچھ خد اسے پاتے ہیں خواہ اس کو عقل اور فلسفہ مانے یا نہ مانے ہم اس کو ضرور مانتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں؛ البتہ اہل عقل سے جو لوگ عقل کی پیروی کرتے ہیں وہ آپ کی بات پر توجہ کریں توخوب ہے۔آپ مولوی نور الدین صاحب سے مشورہ لیں۔آجکل تراجم کثرت سے شائع ہو رہے ہیں کہ مردوّجہ فلسفہ کی پیروی میں شائع ہوتے ہیں۔مگر ہمارا مذہب یہ نہیں ہے۔پر میں تم کو ایک نصیحت کرتا ہوں۔اس کو ضرور غور سے سُن لو۔اگر خدا تعالیٰ نے تم سے کوئی ایسا عظیم الشان کام لینا ہوتا تو تمہارا ؎ٰ ا رئیہ اور دماغ اچھا بناتا۔مگر یہ مصلحتِ الٰہی ہے کہ وہ اچھا نہیں بنایا گیا بلکہ کمزور بنایا گیا ہے ؎
ہر کے را بہر کارے ساختند
تم اپنے آپ کو خوش باش رکھو اور خدا تعالیٰ کی منشاء کے خلاف نہ کرو۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔