ہے۔اسی طرح؎ٰوہ خدا تعالیٰ اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ عطا نہیں کرسکتا؟مثلاً دیا نند مرگیا ہے ۲؎ ۔آجاوے تو ہم اس کو اس طرح شناخت کر سکیں گے کہ ستیار تھ پر کاش کا یاوید کا کچھ حصہ ہمیں پڑھ کر سنا دیوے۔پڑھا ہوا آدمی تو اگر بھینس کی شکل میں بھی آجاوے تو چاہیے کہ وہ بھینس بھی طوطے کی طرح بولے۔ہاں صوفیوں نے بھی یہ لکھا ہے ؎ ہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ام ہفت صد ہفتاد قالب دیدہ ام مگر اس کے کچھ اور معنی ہیں۔یعنی جب انسان خد اتعالیٰ کی طرف ترقی کرنے لگتا ہے تو پہیل اس کی حالت بہت اَبتر ہوتی ہے۔جس طرح ایک بچہ آج پید اہوا ہے تو ا سمیں صرف دودھ چوسنے ہی کی طاقت ہوتی ہے اور کچھ نہیں۔پھر جب غذا کھانے لگتا یہتو آہستہ آہستہ غصہ،کینہ،خودپسندی،نخوت علیٰ ہذاالقیاس۔سب باتیں اس میں ترقی کرتی جاتی ہیں اور دن بدن جُوں جُوں اس کی غذائیت بڑھتی اجتی ہیشہوات اور طرح طرح کے اخلاقِ ردّیہ اور اخلاقِ فاضلہ زور پکڑتے جاتے ہیں اور اسی طرح ایک وقت پر اپنے پورے کمال انسانی پر جاپہنچتا ہے اور یہی اس کے جسمانی جنم ہوتے ہیں۔یعنی کبھی کُتے،کبھی سؤر،کبھی بندر،کبھی گائے،کبھی شیر وغیرہ جانوروں کے اخلاق اور صفات اپنے اندر پید اکرتا جاتا ہے گویا کل مخلوقات الارض کی خاصیت اس کے اندر ہوتی جاتی ہے۔اسی طرح جب اﷲ تعالیٰ کے ساتھ سلوک کا راستہ چاہے گا تو یہ ساری خاصیتیں اس کو طے کرنی پڑیں گی اور یہی تناسخ اصفیاء نے مانا ہے اور اس کا اسلام اور قرآن بھی اقراری ہے۔غالباً یہی تناسخ ہنود میں بھی تھا،مگر بے علمی سے دھوکہ لگ ااور سمجھ اُلٹی ہو گئی۔مگر دنیا میں جس بات کو کوئی شخص مان بیٹھا ہے وہ اس کو چھوڑ نہیں سکتا ورنہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ راستی کو دریافت کرکے ناراستی کو چھوڑ دیتے،مگر یہاں ضدّ،تعصب اور ہٹ دھرمی ماننے نہیں دیتی۔ مکھیاں شہد بناتیں ۔ریشم کا کیڑا ریشم بناتا۔موتی کا کیڑا موتی بناتا،بیل،گھوڑے،گائے،جونگ وغیرہ ہر ایک چیز انسان کے واسطے فائدہ مند ہے۔اگر سب چیزیں اتفاقی ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے حکمت سے پیدانہیں کیں توپھر ایک وقت پر اپنا جنم پورا کر کے کل گائیں، کل مکھیاں،کل گھوڑے وغیرہ سب جانورانسان بن جانے چاہیے۔تو پھر یہ چیزیں اور تعمتیں ایک وقت آنے پر دنیا سے نابود ہو جانی چاہئیں۔