دوں گا۔پس پھر ان دونوں خدمتگاروں کو اپنے سفر پر کای اعتراض ہے؟ اس طرح لنگڑے ،اندھے،اپاہج،غریب، فقیر وغیرہ لوگ جو خد اتعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اُن کو جب اس آخری جہان میں چل کر بدلہ ملنا ہے تو کیا ضرورت ہے کہ ہم گوناگوں جنم مان لیں اور اس بڑے اور حقیقی جنم سے اعتراض کریں۔جو دُکھ اﷲ تعالیٰ نے دیئے ہیں۔وہ تو ثواب حاصل کرنے کو دیئے ہیں،جبکہ وہ رحم کر نیوالا ہے تو کسی کو کسی طرح اور کسی کو کسی طرح بدلہ دیتا اور دیتا رہے گا۔پس اپاہج اور اندھے وغریرہ کو اپنی ان نقائص خلقت کا بدلہ قیامت میں مل جاویگا۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص شاہی گھر میں پید اہو اہے اور سارے سامان عیش و نشاط مہیا ہیں پر وہ باریک در باریک دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہے اور وہ شخص جو گدائی اور فقیری حیثیت میں بھیک مانگتا پھرتا ہے ایسے سُکھوں میں ہو کہ اس امیر زادے کو کبھی میّسر نہیں۔پھر کیا کہیں دولت والے کو یہ حکم دیا ہے اکہ اس سے عیاشی کر بلکہ یہ حکم دیا ہے کہ غیب بھائی کی طرح عبادت کر۔بہرحال یہ دنیا چند روزہ ہے۔انسان کیا سمجھتا ہیکہ میری عمر کس قدر ہے۔
عقیدہ تناسخ
جنم کی شکی بات کو قبول کرنا عقل کا کام ہرگز نہیں۔انسنا جب پید اہوت ااور اپنی عمر طبعی پوری کرکے مرجاتا ہے تو کبھی کسی نے اُس شخص کو اس جہان میں واپس آتے ہوئے نہیں دیکھا۔مثلاً بڑے بڑے عالم اور فاضل مرجاتے ہیں تو اُنہوں نے واپس آکر کبھی نہیں بتلایا کہ میں نے پچھلے جنم میں فلاں علم حاصل کیا تھا۔ہزاروں جنم پائے اور علم و عمل حاصل کرتا رہا۔مگر جب واپس آیا وہ پہلے علم وعمل ضائع ہوتے رہے۔جس طرح وہ واپس آکر سب علوم بھلا دیت ابلکہ یہاں کا پہلا آنا بھی اس کو یاد نہیں رہتا،تو وہاں کیا یاد رکھے گا اور نجات کس طرح حاصل کرے گا۔جو لوگ تناسخ کے قاتل ہیں وہ کہتے ہیں کہ مکتی گیان سے ہوگی مگر کروڑ دفعہ کے جنم سے ایک حرف تک ان کو یاد نہیں رہتا اور جب آتا ہے خالی ہاتھ ہی آتا ہے۔کچھ تو ساتھ لاوے ۔اگر کچھ ساتھ نہیں لاتا تو گیان کیا ہوا۔
غرض جس طرح ہم دیکھتے ہیں کہایک شخص کے ہاتھ پائوں سرد ہو گئے ہیں۔دم بند ہو گیا ہے۔آنکھیں پتھر اگئی ہیں اور روح رخصت ہو گیا ہے۔اسی طرح تم اس کے واپس آنے کا ثبوت پیش کرو۔تو ہم مان لیتے ہیں۔واپس آنے کا ثبوت تو یہی تھا کہ اپین کسی گیان کو ساتھ لے آتا ۔مگر یہ بیہودہ خیال ہے کہ وہ کسی گیان کو ساتھ لاوے۔پس بغیر ثبوت کے ہم کیسے مان سکتے ہیں۔بڑا مولوی اور بڑا پنڈت بن کر اس جگہ سے رخصت ہوا تھا۔واپس آکر کچھ بھی یاد نہیں۔جب وہاں جا کر سب کچھ بھول آتا ہے تو کس طرح معلوم ہو کہ یہ دوسرا جنم لے کر آیا ہے۔اگر صرف اس کمی بیشی کو پورا کرنے کے واسطے جنم مانتا ہے،تو ہم یوں کیون نہ مان لیں کہ جس طرح یہاں تکلیف اُٹھاتا