یہ ایک سچی اور حقیقی محبت ہوتی ہے لیکن وجودی کا مدّعا جھوٹا ہے۔یہ وہ کرے جو خدا تعالیٰ پر محیط ہو۔وجودی چونکہ ترکِ ادب کا طریق اختیار کرتا ہے۔اس لیے طاعت،محبت، عبادتِ الٰہی سے محروم رہتا ہے۔؎ٰ
۸؍جولائی ۱۹۰۴ء
احاطہ عدالت
دنیوی تکالیف اور مصائب کی تلافی فرمایا :
جن کو اﷲ تعالیٰ دنیا میں تکالیف دیتا ہے اور جو لوگ خود خدا تعالیٰ کے لیے دُکھ اُٹھاتے ہیں۔اُن دونوں کو خدا تعالیٰ آخرت میں بدلہ دیگا۔دنیا تو چلنے کا مقام ہے،رہنے کا نہیں۔اگر کوئی شخص سارے سامان خوشی کے رھکتا ہے،تو خوشی کا مقام نہیں ۔یہ سب آرام اور دُکھ ختم ہونے والے ہیں اور اس کے بعد ایک ایسا جہان آنیوالا ہے جو دائمی ہے۔جو لوگ اس مختصر جہان میں انسانی بناوٹ میں فرق اور کمی بیشی دیکھ کر دوسرے جنم کے گناہوں اور عملوں پر محمول کر لیتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔وہ یہ معلوم نہیں کرتے کہ آخرت کا یک بڑا جنم آنیوالا ہے اور جن کو خد اتعالیٰ نے پیدائش میں کوئی نقص عطا کیا ہے اور جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود بخود خدا تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے دُکھوں میں ڈال دیا ہے ان دونوں کو وہاں چل کر بدلہ ملے گا۔یہ جہان تو تخمریزی کا جہان ہے اور ایسے موقع حاصل کرنے کے واسطے ہے۔جن سے خدا تعالیٰ راضی ہو۔
بعض لوگ اپنے عملوں سے خد اکو راضی کرتے اور بعض اپنے آپ کو تکالیف میں ڈال کر خدا کو راضی کرتے ہیں۔ایک شخص کے دو خدمتگار ہیں۔ایک کو وہ ایسے کام اور سفر پر روانہ کرتا ہے کہ جہاں اس کو سواری مل سکتی اور راستہ میں بھی سایہ دار اور ٹھنڈا ہے اور ہر طرح کا آرام ہے۔دوسر خدمتگار کو ایسی طرف روانہ کرتا ہے جس راستہ میں نہ تو سواری مل سکتی ہے اور نہ سایہ ہے بلکہ پیدل چلنا اور سخت گرمی اور دھوپ اور لُو کا سامنا ہے۔مگر وہ جانتا ہے کہ جس کو جتنی تکلیف ہوگی اس کو اتنا ہی بدلہ اور عوضِ خدمت