کرتے ہیں۔ بہت تجسس کرنا جائز نہیں ایک شخص نے سوال کیا کہ ہمارے شہر میں وجودی فرقہ کے لوگ کثرت سے ہیں۔اور ذبیحہ وغیرہ انہیں کے ہاتھ سے ہوتا ہے۔کیا اس کا کھانا حلال ہے کہ نہیں؟ فرمایا کہ : بہت تجسس کرنا جائز نہیں ہے۔موٹے طور پر جو انسان مظرک یا فاسق ہو اس سے پرہیز کرو۔عام طور پر اس طرح تجسس کرنے سے بہت سی مشکلات درپیش آتی ہیں۔جو ذبیحہ اﷲ کا نام لے کر کای جاوے اور اس میں اسلام کے آداب مد نظر ہوں وہ خواہ کسی کا ہو۔جائز ہے۔ وجودی فرقہ کی بناء اس کے بعد فرمایا کہ : طبعاً یہ سوال پیدا ہوت اہے کہ وجودی پیدا کہان سے ہوئے ۔قرآن شریف اور اسلام میں تو ان کا پتہ نہیں ملتا مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو صرف دھوکا لگا ہوا ہے۔جو راستباز اکابر گذرے ہیں وہ اصل میں فنائے نظری کے قائل تھے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ انسان ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون میں توجہ اﷲ کی طرف رکھے اور اس قدر فانی اس میں ہو کہ گویا اور کسی شئے کی قدرت اور حرکت بذاتہ اُسے نظر نہ آوے۔ہر ایک شئے کو فانی جان لے اور اس قدر تصرف الٰہی اُسے نظر آوے کہ بلا ارادۂ الٰہی کے اور کچھ نہیں ہو رہا۔اسی مسئلہ میں غلطی واقع ہو کر آخر فنا وجودی تک نوبت آگئی اور یہ کہنے لگے کہ سوائے خدا کے اور کوئی شئے نہیں ہے۔اپنے آپ کو بھی خد اماننے لگے۔اس خیال سے یہ مذہب پھیلا ہے کہ فناء نظری کے شوق میں اولیاء اﷲ سے کچھ ایسے کلمات نکلے ہیں کہ جن کی اُلٹی تاویل کرکے یہ وجودی فرقہ بن گیا ہے۔فناء نظری تک انسنا کا حق ہے کہ محبوب میں اور اپنے آپ میں کوئی خدائی نہ سمجھے اور ؎ من تُو شُدم تُو من شُدی۔ من تن شُدم تُو جاں شُدی تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تُو دیگری کا مصداق ہو۔کیونکہ محب اور محبوب کا علاقہ فنائِ نظری کا تقاضا کرتا ہے اور ہر ایک سالک کی راہ میں ہے کہ وہ محبوب کے وجود کو اپنا وجود جانتا ہے،لیکن فنائِ وجودی ایک من گھڑت بات ہے، جسے ذوق شوق، محبت، صدق اور وفا اور اعمالِ صالحہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فنائِ نظری کی مثال وہی ہے جو مان اور بچے کی ہے کہ اگر کوئی بچے کو مکی مارے تو درد مان کو ہوت اہے۔سخت تعلق جو محبت کا ہے یہ اس سے بھی دردناک ہے اور