پیچ معاملات سے ہرگز فرصت نہیں ہے کہ وہ روح کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور خد اکا خوف بھی محسوس کریں۔اگر کچھ خوف ہے تو گورنمنٹ کا اور امید ہے تو اسباب سے یا اپنے مکرو فریب سے۔اس زمانہ میں جو توکل کا نام لے وہ دیوانہ اور مخبوط الحواس ہے۔اس کا نام مسلوب العقل رکھا جات اہے۔یہ انسنا کی خوش قسمتی ہے کہ قبل از نزول بلا وہ تبدیلی کرلے،لیکن اگر کوئی تبدیلی نہیں کرتا اور اس کی نظر اسباب اور مکرو حیلہ پر ہے تو سوائے اس کے کہ وہ اپنے ساتھ گھر بھر کو تباہ کر دے اور کیا انجام بھوگ سکتا ہے کیونکہ مرد گھر کا کشتی بان ہوت اہے۔اگر وہ ڈوبے گا تو کشتی بھی ساتھ ہی ڈوبے گی۔اسی لیے کہا ہے الرجال قوامون علے النساء (النساء : ۳۵) اسی کی رستگاری کے ساتھ اس کے اہل و عیال کی رستگاری ہے اور ولا یخاف عقبھا (الشمس : ۱۶) سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کو ان کے پسماندوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔اس وقت اس کی بے نیازی کام کرتی ہے۔؎ٰ ۳ ؍جولائی ۱۹۰۴ء؁ بمقام قادیان شریف غربأ کی دلجوئی شام کا وقت تھا۔بعد نماز مغرب مختلف بلاد سے جو لوگ زیارت اور بیعت سے شرف یا ب ہونے کے لیے آئے ہوئے تھے۔مثل پر وانہ حضرت پر گر رہے تھے۔اکثر حصہ ان میں سے دیہات والوں کا تھا۔جگہ کی تنگی اور مرد مان کی کثرت دیکھ کر بعض نے کہا کہ لوگو پیچھے ہٹ جائو۔حضرت جی کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ : کس کو کہا جاوے کہ تم پیچھے ہٹو۔جو آتا ہے اخلاص اور محبت لے کر آتا ہے۔سینکڑوں کوس کے سفر کر کے یہ لوگ آتے ہیں۔صرف اس لیے کہ کوئی دم صحبت حاصل ہو اور انہیں کی خاطر خدا تعالیٰ نے سفارش کی ہے اور فرمایا ہے ولا تصعر لخلق اﷲ ولا تسئم من الناس یہ صرف غریبوں کے حق میں ہے کہ جن کے کپڑے میلے ہوتے ہیں اور ان کو چنداں علم بھی نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کا فضل ہی ان کی دستگیری کرتا ہے۔کیونکہ امیر لوگ تو عام مجلسوں میں خود ہی پوچھے جاتے ہیں اور ہر ایک اُن سے بااخلاق پیش آتا ہے۔اس لیے خدا تعالیٰ نے غریبوں کی سفارش کی ہے جو بیچارے گمنام زندگی بسر