کچھ گفتگو ہوء جسکا اندراج دل چسپی سے خالی نہ ہوگا۔
آریہ سے گفتگو کرنے کے وقت درمیان میں ایک سکھ بول اُٹھا اور اس نے چاہا کہ حضرت کیساتھ گفتگو کرے مگر آپ نے نرمی کے ساتھ اس کو کہا کہ :
ہم تمہاری عزت کرتے ہیں اور تمہارے ساتھ ہمارا کوئی مباحثہ نہیں کیونکہ ہم باوا نانکؒ کو ہندوئوں کے درمیان ایک اوتار اور بزرگ مانتے ہیں اور اس کو ایک پاک آدمی سمجھتے ہیں۔پس جبکہ تمہارے مقصد کو ہم پہلے سے ہی مانتے ہیں تو تمہارے ساتھ مباحثہ کرنے کی ہمیں حاجب نہیں۔
اس کے بعد آپ آریہ کی طرف مخاطب ہوئے جس کا نام پورن چند تھا جو کہ ہوشیار پور کے رہنے والے ایک صاحب تھے۔
حضرت اقدس۔آریوں میں جو لوگ بڑے بڑے لیکچر دیت یہیں اور قوم کی پست حالت کو ترقی دینا چاہتے ہیں،اُن کی علت غائی کیا ہے؟ ہر ایک قوم اپنے لیے ایک انتہائی مقصد رکھتی ہے۔سووہ انتہائی مقصد تمہارے ریفارمروں کا کیا ہے؟لیکن مصلحین کے مقاصد دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ ہوتے ہیں جو دنیوی امور کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔ایک وہ ہوتے ہیں جو دینی امور کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔میرا مطلب اس وکت دینی امور میں اصلاح کرنے والوں سے ہے کہ و ہ اپنا انتہائی مقصد کیا رکھتے ہیں؟
آریہ۔ ہمارے نزدیک دین دنیا سے علیحدہ نہیں۔دینی لوگ ہی دنیا کے کاموں کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور عمدگی سے کرسکتے ہیں۔اس واسطے ہم دونوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ہم دنیا داری کی اصلاح دین میں شامل رکھتے ہیں۔
حضرت اقدس۔ میں قبول کرتا ہوں کہ جس شخص کی دین میںآنکھ کھلتی ہے وہ دنیا کے معاملات میں بھی راستی اور دیانت اختیار کرتا ہے اور اس کے بغیر دنیا نہیں سنورتی۔لیکن میرا مطلب اس جگہ صرف دین کے متعلق سوال کرنے اور دنیا کو علیحدہ رکھنے سے یہ ہے کہ دنیا کے واسطے ایک خاص عقل بھی ہوتی ہے۔مثلاً ؎ٰراج کا کام میں نہیں جانتا میں اس کے کام پر کوئی اعتراض نہیں کرتا نہ اس کے کام کی اصلاح کرتا ہوں۔اگر گورنمنٹ کو ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ایسا آدمی ملازم رکھتی ہے جس نے اس فن میں بہت محنت اور کوشش کرکے ایک تعداد پیداکی ہوئی ہوتی ہے۔کیسا ہی کوئی دھرم آتما ہو۔اگر وہ سرکاری قناون سے آگاہ نہیں جو جج نہیں بن سکتا۔اس طرح دنیوی اصلاحوں کی ایک علیحدہ