شاخ ہے۔جیس اکہ لوگ نئی نئی قسم کی ایجادیں کرکے پہلے سے بہتر گاڑیاں اور آوزار اور سامان بناتے ہیں۔یہ بیھ ایک اصلاح ہے۔ہان نیک دل لوگ بھی اصلاح کے واسطے ہی آتے ہیں،لیکن دنیوی امور میں ان کا دخل ایک عام اتفاک تک ہوت اہے کہ بدچلنی نکل جاوے اور لوگ تمام کام نیک نیتی سے پورے کریں۔باقی علوم و فنون دنیادار ہی جانتے ہیں۔دینی مصلح ایک عام اصلاح کرتا ہے جو رفاہ عام کے متعلق ہو۔
آریہ۔ جیس اکہ تمام اشیاء قدرت نے ہم کو دی ہیں جو ہماری دوسری ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔ایس ای گیان کے واسطے بھی قدرت نے ہم کو ایک شئے دی ہے اور وہ وید ہیں۔آریہ سماج کا یہکام ہے کہ وہ ویدوں کی تعلیم کو پھیلائیں۔
حضرت اقدس۔وہ انتہائی نقطہ کونسا ہے جس کی طرف ویدوں کی تعلیم لے جاتی ہے۔
آریہ۔ جسم کی ترقی۔سماج کی ترقی اور روح کی ترقی۔
حضرت اقدس۔روحانی ترقی کیا ہے؟
آریہ۔موکش پانا (نجات حاصل کرنا)
حضرت اقدس۔یہ تو سب کا دعویٰ ہے،لیکن ایک ادعائی رنگ ہوت اہے جو صرف خیالی رنگ اور وہم تک محدود ہو اہے کہ ہم نے یہ کام کر لیا ہے۔لیکن اس میں ایک امتیازی رنگ ہونا چاہیے جس سے تمیز ہو جاوے کہ ا سمیں نجات ہے اور اس میں نہیں۔خیر اس وقت ہم ویدوں کی تعلیم پر حملہ نہیں کرتے۔فرض کرو وہ سب تعلیم عمدہ ہے۔لیکن ممکن ہے کہ وہ کسی کی نقل ہو۔مثلاً جاپان اس وقت ایک طاقت بن گئی ہے۔لیکن ان کی سب باتیں یورپ کی نقل ہیں۔ ایسا ہی پارسی کہتے ہیں کہ زند اوستاویدوں سے بھی پرانے ہیں اور ویدوں کی بعض باتیں اس سے ملتی بھی ہیں۔اس لیے اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص وید کی باتوں پر عمل کرے۔فلسفیانہ رنگ میں اس کو علم کی طرح حاصل کرے لیکن ویدوں کو الہامی کتاب نہ مانے اور نہ اس کے ساتھ کوئی تعلق رکھے تو کیا وہ موکش حاصل کرسکتا ہے؟ جیس اکہ دنیوی علوم و فنون کے واسطے ضروری نہیں ہوتاکہ استاد کس مذہب کا ہو۔ایک ہندو اُستاد ہو یا عیسائی ہو یادہریہ ہو۔سب بدرسوں میں موجود ہوتے ہیں۔
آریہ۔ ہان موکش کے واسطے وید کو الہامی ماننا ضروری نہیں۔جو مثالیں آپ نے دی ہیں وہ درست ہیں اور جیساکہ اقلیدس کی شکلیں ہیں ہر ایک اس کو سیکھ اور سکھا سکتا ہے۔لیکن آریہ سماج ان شکلوں کو درست حالت میںرکھتی ہے باقیوں نے غلطیاں ملادی ہیں۔اگر وید پر اسلام عمل کرے تو وہ اچھا ہے بہ نسبت