ہوتا ہے کہ وہ مرگیا کام کیا کیا؟ یہ مہذب لوگ کہتے ہیں کہ اتنا بڑا دعویٰ کیا تھا کہ کسر صلیب ہوگا اور یہ ہوگا اوروہ ہوگا۔مگر اب خامی کی حالت میں چلے گئے۔اس میں اﷲ تعالیٰ پیشگوئی فرماتا ہے۔
لا نبقی لک من المخزیات ذکرا۔
اور سچے آدمی کو غم بھی یہی ہوتا ہے ۔جیسے آنحضرت ﷺ کو فرمایا کہ تیرے بوجھ کو جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی اُٹھادیا۔وہ بھی علت غائی کا بوجھ ہے۔غرض اﷲ تعالیٰ نے اس وحی میں بشارت دی ہے گویا اس کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔اب سنو! جبکہ خد اتعالیٰ کا یہ وعدہ ہے تو یہ ہو کر رہے گا۔تمہیں مفت کا ثواب ہے۔پس تم اس وصیت کی تکمیل میں میرا ہاتھ بٹائو۔وہ قادر خد اجس نے پیدا کیا ہے دنیا اور آخرت کی مرادیں دیدے گا۔
دسمبر ۱۹۰۵ء کا آخری ہفتہ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک آریہ سے گفتگو
ہر سال دسمبر کے آخری ہفتہ میں احمدی احباب مختلف شہروں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلما کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور قادیان میں ایک جلسہ کا رنگ ہو جاتا ہے۔اسی واسطے آریوں نے بھی چند سالوں سے قادیان میں سالانہ جلسہ کرنے کی تجویز کی ہوئی ہے۔پہلے تو جھوٹی خبریں اُڑایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب کے ساتھ مباحثہ ہوگا اس واسطے دورونزدیک کے آریہ تماش بینی کے واسطے آجاتے تھے۔مگر اب بھی خصوصاً ایسے آریہ مہاشے لیکچرار جمع ہو جاتے ہیں کہ اسلام کو گالیاں دینے میں خاص مشق اور ملکہ رکھتے ہیں۔اس واسطے آریوں کو خوش ہوجانے کا کچھ سامان مل ہی جاتا ہے۔ان باہر سے آنے والے آریوں میں سے ہر سال کوئی نہ کوئی جماعت ایسی بھی ہوتی ہے جو حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاض رہو کر عرض کرتی ہے کہ ہم تو زیادہ تر آپ کے درشنوں کے واسطے آئے تھے اور ایسے لوگ عموماً نہایت ادب کے ساتھ بیٹھتے اور حضور کی باتیں سنتے ہیں؛چنانچہ اس دفعہ بھی جلسہ آریہ کی چند جماعتیں متفرق اوقات میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتی رہیں۔ایک دن ان میں سے ایک آریہ کے ساتھ حضرت کی