پر گذرا ہے کہ میں نے بائیبل کو سامنے رکھ کر دیکھا۔جن باتوں پر عیسائی ناز کرتے ہیں۔وہ تمام سچائیاں مستقل طو ر پر اور نہایت ہی اکمل طور پر قرآن مجید میں موجود ہیں۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں کو اس طرف توجہ نہیں۔وہ قرآن شریف پر تدبر ہی نہیں کرتے اور نہ ان کے دل میں کچھ عظمت ہے، ورنہ یہ تو ایسا فخر کا مقام ہے کہ اس کی نظیر دوسروں میں ہے ہی نہیں۔
تکمیل دین کا مبارک دن
غرض
الیوم اکملت لکم دینکم (المئادۃ : ۴)
کی آیت دو پہلو رکھتی ہے۔ایک یہ کہ تمہاری تطہیر کر چکا ۔دوم کتاب مکمل کر چکا ۔کہتے ہیں جب یہ آیت اُتری وہ جمعہ کا دن تھا۔حضرت عمر ؓ سے کسی یہودی نے کہا کہ اس آیت کے نزول کے دن عید کر لیتے۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ جمعہ عید ہی ہے۔مگر بہت سے لوگ اس عید سے بے خبر ہیں۔دوسری عیدوں کو کپڑے بدلتے ہیں۔لیکن اس عید کی پروا نہیں کرتے اور میلے کچیلے کپڑوں کے ساتھ آتے ہیں۔میرے نزدیک یہ عید دو سری عیدوں سے افضل ہے۔اسی عید کے لیے سورہ جمعہ ہے اور اسی کے لیے قصر نماز ہے۔اور جمعہ وہ ہے جس میں عصر کے وقت آدم پیدا ہوئے۔اور یہ عید اس زمانہ پر بھی دلالت کرتی ہے کہ پہلا انسان اس عید کو پیدا ہوا۔قرآن شریف کا خاتمہ اسی پر ہوا۔
حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کی فراست
کہتے ہیں جب یہ آیت اُتری تو ابو بکرؓ روپڑے۔کسی نے کہا اے بڈھے۔کیوں روتا ہے؟ آپؓ نے جواب دیا کہ اس آیت سے آنحضرت ﷺ کی وفات کی بُو آتی ہے۔کیونکہ یہ مقرر شدہ بات ہے کہ جب کام ہو چکتا ہے تو اس کا پور اہونا ہی وفات پر دلالت کرتا ہے۔جیسا دنیا میں بندوبست ہوتے ہیں اور جب وہ ختم ہو جاتا ہے تو عملہ وہاں سے رخصت ہوتا ہے۔جب آنحصرت ﷺنے حضرت ابو بکرؓ والا قصہ سنا تو فرمایا سب سے سمجھدار ابو بکرؓ ہے اور یہ فرمایا کہ اگر دنیا میں کسی کو دوست رکھتا تو ابو بکر کو رکھتا اور فرمایا۔ابو بکرؓ کی کھڑ کی مسجد میں کھل رہے باقی سب بند کردو۔کوئی پوچھے کہ اس میں مناسبت کی اندرونی کھڑکی اس طرف ہے تو ا سکے لیے یہ بھی کھڑکی رکھی جاوے۔یہ بات نہیں کہ اور صحابہؓ محروم تھے۔نہیں۔بلکہ ابو بکرؓ کی فضیلت وہ ذاتی فراست تھی جس نے ابتداء میںبھی اپنا نمونہ دکھایا اور انتہاء میں بھی۔گویا ابو بکرؓ کا وجود مجموعۃ الفراستین تھا۔
تم اس وصیت کی تکمیل میں میرا ہاتھ بٹائو
اب میں پھر یہ ذکر کرے اس کو ختم کرتا ہوں کہ خد ا تعالیٰ نے جہاں میری وفات کی خبر دی ہے۔یہ بھی فرمایا ہے
لا نبقی لک من المخزیات ذکرا بڑ اعتراض عقلمندوں کا یہ