انجیل میں مسیح کے حواریوں کی جو تعریف کی گئی ہے۔وہ سب کو معلوم ہے کہ جابجا ان کو لالچ اور کم ایمان کہا گیا ہے اور عملی رنگ ان کا یہ ہے کہ اُن سے ایک نے تیس روپے لیکر پکڑوادیا اور پھر ایک نے سامنے لعنت کی۔انصاف کر کے کہو کہ یہ کیس تکمیل ہے۔اس کے بالمقابل قرئن شریف صحابہؓ کی تعریف سے بھرا پڑا ہے۔اور ان کی ایسی تکمیل ہوئی کہ دوسری کوئی قوم اس کی نظیر نہیں رکھتی۔پھر اُن کے لیے اﷲتعالیٰ نے جزا بھی بڑی دی۔یہانتک کہ اگر باہم کوئی رنجش بھی ہوگئی تو اس کے لیے فرمایا
ونزعنا ما فی صدورھم من غل (الحجر : ۴۸)
حضرت عیسیٰ ؑنے بھی حواریوں کو تختوں کا وعدہ دیا تھا،مگر وہ ٹوٹ گیا۔کیونکہ بارہ تختوں کا وعدہ تھا مگر یہودا اسکریوٹی کا ٹوٹ گیا۔جب وہ قائم نہ رگا تو اوروں کا کیا بھروسہ کریں،مگر صحابہؓ کے تخت قائم رہے۔دنیا میں بھی رہے اور آخرت میںبھی۔غرص یہ آیت
الیوم اکملت لکم (المائدۃ : ۴)
مسلمانوں کے لے کیسے فخر کی بات ہے۔
لیلۃ القدر۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت کا زمانہ
اب ان باتوں کو ملا کر غور کرو کہ آپ آئے ایسے وقت جبکہ بالکل تاریکی چھائی ہوئی تھی۔جیسا کہ فرمایا۔
انا انزلنہ فی لیلۃ القدر (القدر : ۲)
ایک لیلۃ القدر تو وہ ہے جو پچھلے حصہ رات میں ہوتی ہے جبکہ اﷲ تعالیٰ تجلی فرماتا ہے اور ہاتھ پھیلاتا ہے کہ کوئی دعا کرنے والا اور استغفار کرنے والا ہے جو میں اس کو قبول کروں،لیکن ایک معنے اس کے اور ہیںجس سے بدقسمتی سے علماء مخالف اور منکر ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ ہم نے قرئن کو ایسی رات میں اُتارا ہے کہ تاریک وتار تھی اور وہ ایک مستعد مصلح کی خواہاں تھی۔خدا تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جبکہ اس نے فرمایا: ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات : ۵۷)
پھر جب انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ تاریکی ہی میں پڑا رہے۔ایسے زمانے میں بالطبع اس کی ذات جوش مارتی ہے کہ کوئی مصلح پیدا ہو۔پس انا انزلنا ہ فی لیلۃ القدر (القدر : ۲)
اس زمانہ ضرورت بعثت آنحضرت ﷺ کی ایک اور دلیل ہے اور انجام الیوم اکملت لکم میں فرمادیا۔گویا یہ بات نبوت کی دوسری فصل ہے۔اکمال سے یہی مطلب نہیں کہ سورتیں اُتار دیں بلکہ تکمیم نفس اور تطہیر قلب کی۔وحشیوں سے انسان پھر اس کے بعد عقلمند اور بااخلاق انسان اور پھر باخدا انسان بنادیا اور تطہیر نفس، تکمیل اور تہذیب نفس کے مدارج طے کرادیئے۔اور اسی طرخ پر کتاب اﷲ کو بھی پورا اور کامل کر دیا۔یہانتک کہ کوئی سچائی اور صداقت نہیں جو قرآن شریف میں نہ ہو۔میں نے اگنی ہوتری کو بارہا کہا کہ کوئی ایسی سچائی بتائو جو قرآن شریف میں نہ،مگر وہ نہ بتاسکا۔ایس اہی ایک زمانہ مجھ