عظیم الشام مصلح کی ضرورت ہے اور یہ مسلّم بات ہے کہ ضرورت علوم کی ماں ہوتی ہے۔ہر قسم کا علم ضرورت سے پیدا ہوا ہے۔طب،طبعی،ہیئیت،جغرافہ وغیرہ تمام علوم کی ماں ضرورت ہی ہے۔پس اگر سمجھ دار ہو تو سمجھ لے کہ اس دقیقۂ معرفت؎ٰکی ماں بھی کوئی عظیم الشان ضرورت ہے۔بہت سے صحابہؓ آپؐ پر ایمان لائے یہ دیکھ کر کہ آپؐ ایسے وقت آئے ہیں جو سخت ضرورت کا وقت ہے۔اگر آپؐ نہ آتے تو شاید نوحؑ کی طرح کا ایک طوفان آکر دنیا کو ہلاک کر دیتا۔میں یقینا جانتاہوں اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آپ کے لیے ایسا اجلیٰ اور اصفیٰ نظارہ ضرورتوں کا ہے کہ کسی دوسرے کے لیے وہ میسر نہیں اور حضرت عیسیٰ ؑکے لیے تو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔فقیہ اور فریسی موجود تھے جو موسیٰ ؑ کی گدی پر بیٹھے تھے۔اس لیے انہوںن نے کسی نئی شریعت کا دعویٰ ہی نہیں کی اور پھر جبکہ یہودیوں کے اس قدر گوہ موجود تھے تو نہیں کہہ سکتے کہ سب منحرف تھے۔بعض عامل بھی تھے اور وحی اور الہام کا بھی دعویٰ کرتے تھے کیا ان میں کوئی ایسا تھا جو انسان کو خدا بناتا ہو؟ وہ تو موجودہ عیسائی مذہب سے بھی اچھے تھے۔موحد تھے۔میں نے زین الدین ابراہیم کی معرفت بمبئی میں ایک یہودی عالم سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ انسان خدا ہوگا۔اس نے قسماً کہا کہ ہرگز نہیں۔ہم تو اسی خد اکو مانتے ہیں جو قرآن میں بیان ہوا ہے۔ہم انسان کو خدا کہنا کفر سمجھتے ہیں جو تمام لوازم ضعف ،ناتوانی،بیماری کے رکھتا ہے۔یہ لعنتی مذہب ہے جو انسا ن کو خدا بناتا ہے۔ غرض آنحضرت ﷺ کی بعثت کی ضرورت ایسی واضح اور روشن ہے کہ کسی دوسرے نبی کا زمانہ ایسی نظیر نہیں رکھتا۔ اب دوسرا حصہ دیکھو کہ آپ فوت نہیں ہوئے جبتک الیوم اکم اکملت لکم دینکم (المائدۃ : ۴) کی آواز نہیں سن لی۔اور اذاجائنصراﷲ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اﷲ افواجا (النصر : ۲،۳) کا نظارہ آپؐ نے نہیں دیکھ لیا۔یہ آیت نہ توریت میں ہے نہ انجیل میں۔توریت کا تو یہ حال ہے کہ موسیٰ ؑراستہ ہی میں فوت ہو گئے اور قوم کو وعدہ کی سرزمین میںداخل نہ کرسکے۔حضرت عیسیٰ ؑ خود کہتے ہیں کہ بہت سی باتیں بیان کرنے کی تھیں۔کیا قرآن شریف میں بھی ایسا لکھا ہے؟وہاں تو اکملت لکم ہے۔رہی ان کی تکمیل۔صحابہؓ کی جو تکمیل آنحضرت ﷺ نے کی وہ اس سے ظاہر ہے کہ اﷲ تعالیٰ خود اُن کی نسبت فرماتا ہے منہم من قضیٰ نحبہ (الاحزاب : ۲۴) اور پھر ان کی نسبت رضی اﷲ عنہم ورضو اعنہ (البینۃ : ۹) فرمایا۔لیکن