نہ اعتراض ہوتے۔مگر وہنبی جس کی تعلیم اتم اور اکمل تھی اس کے لیے خدا تعالیٰ نے یہ نہ چاہا کہ اُسے ناہل قبول کریں۔اس لیے چند باتیں ایسی رکھ دیں جو نظر بد دور کا کام دیتی ہیں اور اُن پر اعتراض ہوا اور نا اہل الگ رہے،مگر جو لوگ اہل تھے انہوں نے حقیقت کو پالیا۔
دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک نکتہ چین اور معترض ۔یہ ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت اور نبی کے صدق و وفا کو دیکھتے ہیں۔وہ اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے عجائبات مشاہدہ کرتے ہی۔وہ اس کے حالات سے خبر پاتے ہیںاور انہیں حاجت نہیں ہوتی کہ کچھ اور دیکھیں ۔بدبخت نا اہل وہ باتیں دیکھتے ہیں جن سے شقاوت بڑھے۔
میں نے تذکرۃ الاولیاء میں ایک لطیفہ دیکھا کہ ایک شخص ایک بزرگ کی نسبت بدگمانی رکھتا تھا کہ یہ مکار ہے اور فاسق ہے۔ایک دن اُن کے پاس آیا اور کہا۔کہ حضرت کوئی کرامت تو دکھائو۔فرمایا۔میری کرامت تو ظاہر ہے۔باوجودیکہ تم تمام دنیا کے معاصی مجھ میں بتاتے ہو۔مگر پھر دیکھتے ہو کہ خدا تعالیٰ مجھے غرق نہیں کرتا۔لوط کی بستی تباہ ہوئی۔عاد ثمود وغیرہ تباہ ہوئے۔مگر مجھ پر غضب نہیں آتا۔کیا یہ تیرے لیے کرامت نہیں ہے؟
بات بڑی لطیف ہے۔یعنی عیب پیدا کرنے والے لوگوں کو یہ بھی تو چاہیے کہ وہ دیکھیں کہ وہ شخص جو منجانب اﷲ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جس پر اس قدر اعتراض اور نکتہ چینیاں کی جاتی ہیں۔وہ جو ہلاک نہیں ہوتا کیا خدا بھی اس سے دھوکے میں ہی رہا؟
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت
عیسائیوں نے آنحضرت ﷺ کی یہی حقیقت سمجھی کہ معاذ اﷲ آپ افتراء کرتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو وہ نصرت دی اور وہ فضیلت دی کہ آدمؑ سے اخیر تک کسی کو وہ کامیابی کبھی نصیب نہ ہوئی بلکہ آپؐ کے متعلق ایک ایسا نکتہ ہے جو آپ کی عظمت کو اور بھی بڑھا دیتاہے۔اور وہ یہ ہے۔کہ آپ ایسے وقت تشریف لائے جبکہ
ظھر الفساد فی البر والبحر (الروم : ۴۲)
کا وقت تھا یعنی اہل کتاب بھی بگڑ چکے تھے اور غیر اہل کتاب بھی بگڑے ہوئے تھے۔اور یہ بات مخالفوں کی تصدیق سے بھی ثابت ہے۔پنڈت دیانند صاحب کہتے ہیں کہ آریہ ورت میں بت پرستی ہو رہی تھی اور اس طرف عرب میں بھی تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔عیسائیوں کے مذہب کا خاصہ یہ رہ گیا تھا کہ ایک عاجز انسان کوخدا بنایا گیا تھا۔غرض جس طرف دیھکو ایک تاریکی چھائی ہوئی تھی اور خدا تعالیٰ سے بالکل غفلت اور لاپروائی ہو چکی تھی اور وہ وکت پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ ایک