اسلام کی ترقی کیلئے اپنے مالو ں کو خرچ کرو ہم اپنے نفس کے لیے کچھ نہیں چاہتے۔بارہا یہ خیال کیا ہے کہ اپنے گذارہ کے لیے تو پانچ سات روپیہ ماہوار کافی ہیں اور جائداد اس سے زیادہ ہے۔پھر میں جو باربار تاکید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہے کیونکہ اسلام اس وقت تنزل کی حالت میں ہے۔بیرونی اور اندرونی کمزوریوں کو دیکھ کر طبیعت بے قرار ہو جاتی ہے۔اور اسلام دوسرے مخالف مذاہب کا شکار بن رہا ہے۔پہلے تو صرف عیسائیوں ہی کا شکار ہو رہا تھا،مگر اب آریوں نے اس پر دانت تیز کیے ہیں اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام کا نام ونشان مٹادیں۔جب یہ حالت ہو گئی ہے تو کیا اب اسلام کی ترقی کے لیے ہم قدم نہ اٹھائیں؟خدا تعالیٰ نے اسی غرض کے لیے تو اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔پس اس کی ترقی کے لیے سعی کرنا یہ اﷲ تعالیٰ کے حکم اور منشاء کی تعمیل ہے۔اس لیے اس راہ میں جو کچھ بھی خرچ کروگے وہ سمیع و بصیر ہے۔ یہ وعدے بھی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے دے گا۔میں اس کو چند گنا برکت دوں گا۔دنیا ہی میں اُسے بہت کچھ ملے گا اور مرنے کے بعد آخرت کی جزا بھی دیکھ لے گا کہ کس قدر آرام میسر آتا ہے۔غرض اس وقت میں اس امر کی طرف تم سب کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسلام کی ترقی کے لیے اپنے مالوں کو خرچ کرو۔اسی مطلب کے لیی یہ گفتگو ہے۔اس وقت جیسا کہ میں شائع کر چکا ہوں اﷲ تعالیٰ نے مجھے خبردی ہے کہ تیری وفات کا وقت قریب ہے جیسا کہ اس نے فرمایا قرب اجلک المقدر۔ولا نبقی لک من المخزیات ذکرا۔ اس وحی سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کوئی ایسا ذکر باقی نہ رہنے دے گا جو کسی قسم کی نکتہ چینی اور خزی کا باعث ہو۔ انبیاء و رسل پر اعتراضات دشمن بداندیش اور مریض قلب والوں کے لیے بہت سی باتیں ہوتی ہیں اور انبیاء اور رسل کی تو قسمت ہی میں اعتراض ہوتے ہیں۔دیکھو آنحرصت ﷺ پر کس قدر اعتراض ہوئے اور ابتک کیے جاتے ہیں۔کیا کسی معمولی زندگی کے انسان پر بھی کئے جاتے ہیں؟کبھی نہیں,صدہا انسان ایسے ہوں گے جو معمولی زندگی کے انسان کی تعریف کریں گے۔مگر جب انبیاء ورسل کا ذکر آئے گا تو وہاں اعتراض کے لیے زبان کھولیں گے۔بات کیا ہے کہ انبیاء ورسل پر اس قدر اعتراض ہوئے ہیں؟اصل یہ ہے کہ جیسے دولت پر سانپ ہوتا ہے تاکہ نامحرم پاس نہ جاوے۔اسی طرح پر انبیاء ورسل بھی ایک بے نظیر دولت ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ سعید اور رشید ہی اُن تک پہنچیں۔اس لیے اس پر قسم قسم کے اعتراض ہوتے ہیں تا کہ وہ لوگ جو اہل نہیں ہیں دور رہیں؛ورنہ اگر اﷲ تعالیٰ چاہتا تو وہ نہ جہاد کرتے،نہ بیویاں کرتے،