کے دروازے کھل جاویںگے ۔پس اس سے پہلے کہ وہ خطرناک گھڑی آجاوے اور موت اپنا منہ کھول کر حملہ شروع کر دے تم نیکی کرو اور خدا تعالیٰ کو خوش کرلو۔
کسوف و خسوف ولای حدیث کی صداقت
میں یہ بھی تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس زمانہ کی تمام نبیوں نے خبردی ہے۔یہ آخری ہزار کا زمانہ آگیا ہے اور دیکھو یہ وقت ہے جس کے لیے گیارہ سو برس پہلے کی کتابوں میں لکھا تھا کہ مہدی کے وقت رمضان میں کسوف خسوف ہوگا اور آدمؐ سے لے کر اس وقت تک کبھی یہ نشان ظاہر نہیں ہوا۔وہ نشان تم نے دیکھ لیا ۔پھر یہ کیسی قابل غور بات ہے۔بعض جاہل اعتراض کرتے اور بہانہ بناتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔احمق اتنا نہیں جانتے کہ جس حدیث نے اپنے آپ کو سچا کر دیا ہے وہ کیسے جھوٹ ہو سکتی ہے۔
محدثین کے اصول کے مطابق سچی اور صحیح حدیث تو وہی ہے جو اپنی سچائی آپ ظاہر کردے۔اگر یہ حدیث ضعیف ہوتی تو پھر پوری کیوں ہوتی؟ دومرتبہ کسوف خسوف ہوا۔اس ملک میں بھی ار امریکہ میں بھی۔اگر یہ حدیث ضعیف ہے تو پھر اس کی مثال پیش کریں کہ کسی اور کے زمانہ میںبھی ہوا ہو؟ یہ حدیث اہل سنت اور شیعہ دونوں کے ہاں کتابوں میں موجود ہے۔پھر اس سے انکار کیونکر کیا جاسکتا ہے۔یہ آسمان کا نشان ہے۔
زمین کا نشان۔طاعون
اور زمین کا نشان وہ ہے جو طاعونکی صورت میں نمودار ہوا۔قرآن شریف میں آیا ہے
وان من قریۃ الا نحن مھلکو ھا قبل یوم القیامۃ او معذبو ھا عذا باشدیدا کان ذلک فی الکتاب مسطورا (بنی اسرائیل : ۵۹)
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب قیامت قریب آجائے گی تو عام طو رپر موت کا دروازہ کھولا جاوے گا۔اور یہ حدیث کسوف خسوف کی قرآن شریف سے بھی صحیح ثابت ہو چکی ہے۔
طاعون کے متعلق شیعہ کی کتابوں میں تو یہانتک لکھا ہے کہ ایسی طاعون ہوگی کہ جہاں دس آدمی ہوں گے ان میں سے سات مرجاویں گے۔اور حقیقت میں یہ ایسی بلا ہے کہ خاندانوں کے خاندان اس سے مٹ گئے ارو بے نام و نشان ہو گئے۔کون جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا؟اس قدر سردی کی شدت میں طاعون ترقی کر رہی ہے۔امرت سر میں زور شور ہے۔ایسی حالت میں کوئی کیا امید کر سکتا ہے۔
جبکہ موت کا بازار گرم ہے تو کیا املاک اور جائدادین سر پر اُٹھا کر لے جائوگے؟ہرگز نہیں۔پھر اگر ان نشانات کو دیکھ کر بھی تبدیلی نہیں کرتے تو کیونکر کہہ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ پر ایمان ہے۔