دعا کرتے رہو۔
جو لوگ اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ سمیع اور بصیر ہے وہ ان باتوں کی پروا نہیں کرتے۔انہیں اس بات کی غرض ہی نہیں ہوتی کہ اُن کے دییء ہوئے مال کا ذکر بھی کرے۔دنیا مرزعہ آخرت ہے۔یعنی آخرت کی کھیتی ہے۔جو کچھ بنانا ہے اسی دنیا میں بنائو۔جو شخص روحانی مال دولت اور جائداد یہاں جمع کریگا۔وہ خوشحال ہوگا؛ورنہ یہاں سے خالی ہاتھ جانا ہوگا اور بڑے عذاب میں مبتلا ہونا پڑے گا۔اس وقت نہ مال کام آئے گا نہ اولاد اور نہ دوسرے عزیز جن کے لیے دین کے پہلو کو چھوڑا تھا۔
خدا کو راضی کرنے کے یہی دن ہیں
اب یاد رکھو۔وہی خدا جس نے تیرہ سو برس پہلے اس زمانہ کی خبر دی تھی وہی خبر دیتا ہے کہزمانہ قریب آگیا ہے اور بڑے بڑے حوادث ظاہر ہوں گے۔اگر ان نشانوں کا انتظار ہے اور ان کے بعد جوش پیدا ہوا تو اس کا ثواب ایسا نہ ہوگا جیسا آج ہے۔بلکہ اﷲ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس وقت اگر کوئی ایمان پیش کریگا تو ذرہ برابراس کی قدر نہ ہوگی۔کیونکہ اس وقت تو کافر سے کافر بھی سمجھ لے گا کہ دنیا فانی ہے۔
میں نے سنا ہے کہ طاعون یک زور کے دنوں میں ایک جگہ ایک بڑا متومول ہندو مر گیا۔مرتے وقت اس نے اپنے مال و دولت کی کنجیاں اپنے بھائی کو دیں۔وہ بھی مرگیا۔اور اس طرح پر ان کا سارا خاندان تباہ ہو گیا اور آخری شخص نے مرتے وقت وہاں کے ایک زمیندار کو کنجیاں پیش کیں۔اس نے انکار کر دیا کہ میں کیا کروں گا۔بالآخر وہ مال داخل خزانہ سرکار ہوا۔
یہ سچی بات ہے کہ جب خوف کے دن آتے ہیں تو بڑے بڑے پاجی اور خبیث لوگ بھی صدقات اور خیرات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔اس وقت یہ باتیں کام نہیں آ تی ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا غضب بھڑک چکا ہوت اہے۔لیکن جو شخص عذاب کے آنے سے پہلے خدا تعالیٰ سے ڈرتا اور اس سے صلح کرتا ہے وہ بچا لیا جاتا ہے۔
پس خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے یہی دن ہیں۔میں بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ خد اتعالیٰ نے جس قدر اپنی ہستی کا ثبوت مجھے دیا ہے میرے پاس الفاظ نہیں جن میں مَیں اُسے ظاہر کر سکوں۔وہی خدا ہے جس نے براہین کے زمانہ میں ان تمام اُمور کی جو آج تم دیکھ رہے ہوخبر دی۔اُن ہندوئوں سے جو ہمارے جدی دشمن ہیں پوچھ لو کہ اس زمانہ میں اس جلوۂ قدرت کا کہاں نشان تھا۔جب وہ ساری باتیں پوری ہو چکی ہیں۔پھر جو باتیں آج وہ بتاتا ہے وہ کیونکر پوری نہ ہوں گی؟
اس خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ عنقریب خطرناک وقت آنے والاہے۔زلازل آئیں گے اور موتوں