بھی ایسی نیکیاں جن میں ریاء کی ملونی نہ ہو اس وقت تک سلوک کی منزل طے نہیں ہوتی۔یہ بات یاد رکھو کہ ریاء حسنات کو ایسے جلادیتی ہے جیسے آگ جس و خاشاک کو۔میں تمہیں سچ سچ کہت اہوں کہ اس مرد سے بڑھ کر مردِ خد ا نہ پائو گے جو نیکی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی پر ظاہر نہ ہو۔ ایک بزرگ کی حکایت لکھی ہے کہ اُسے کچھ ضرورت تھی۔اس نے وعظ کہا اور دوران وعظ میں یہ بھی کہا کہ مجھے ایک دینی ضرورت پیش آگئی ہے۔مگر اس کے واسط یروپیہ نہیں ہے۔ایک بندۂ خدا نے یہ سن کر دس ہزار روپیہ رکھ دیا۔اس بزرگ نے اُٹھ کر اس کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ یہ شخص بڑا ثواب پائے گا۔جب اس شخص نے ان باتوں کو سنا تو وہ اُٹھ کر چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور کہا کہ یا حضرت مجھے اس روپیہ کے دینے میں بڑی غلطی ہوئی ۔وہ میرا مال نہ تھا بلکہ میری ماں کا مال ہے۔اس لیے وہ واپس دے دو۔اُس بزرگ نے تو اُسے روپیہ دیدیا، مگر لوگوں نے بڑی لعن طعن کی اور کہا کہ یہ اس کی اپنی بد نیتی ہے۔معلوم ہوتا ہے پہلے وعظ سن کر جوش میں آگیا اور روپیہ دیدیا اور اب اس روپیہ کی محبت نے مجبور کیا تو یہ عذر بنالیا ہے۔غرض وہ روپیہ لے کر چلا گیا اور لوگ اُسے برا بھلا کہتے رہے اور وہ مجلس برخواست ہوئی۔جب آدھی رات گذری تو وہی شخص روپیہ لئے ہوئے اس بزرگ کے گھر پہنچا اور آکر انہیں آواز دی۔وہ سوئے ہوئے تھے۔انہیں جگایا اور وہی دس ہزار رکھ دیا اور کہا کہ حضرت میں نے یہ روپیہ اس وقت اس لیے نہیں دیا تھا کہ آپ میری تعریف کریں۔میری نیت تو اور تھی۔اب میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ مرنے تک اس کا ذکر نہ کریں۔یہ سنکر وہ بزرگ رو پڑے۔اس نے پوچھا کہ آپ روئے کیوں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے رونا اس لیے آیا ہے کہ تونے ایسا اخفاء کیا ہے کہ جبتک یہ لوگ رہیں گے تجھے لعن طعن کریںگ ے۔غرض وہ چلا گیا اور آخر خدا تعالیٰ نے اس امر کو ظاہر کر دیا۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جو ریاء سے بچے جو شخص خدا تعالیٰ سے پوشیدہ طور پر صلح کر لیتا ہے۔خدا تعالیٰ اُسے عزت دیتا ہے۔یہ مت خیال کرو کہ جو کام تم چھپ کر خدا کے لیے کروگے وہ مخفی رہے گا۔ریا سے بڑھ کر نیکیوں کا دشمن کوئی نہیں۔ریا کار کے دل میں کبھی ٹھنڈ نہیں پڑتی ہے ۔جبتک کہ پورا حصہ نہ لے لے۔مگر ریا ہر مال کو جلادیتی ہے اور کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔خوش قسمت ہے وہ انسنا جو ریا سے بچے۔اور جو کام کرے وہ خدا تعالیٰ کے لیے کرے۔ریاکاروں کی حالت عجیب ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے لیے جب خرچ کرنا ہو تو وہ کفایت شعاری سے کام لیتا ہے۔لیکن جب ریاء کا موقعہ ہو تو پھر ایک کی بجائے سو دیتا ہے اور دوسرے طور پر اسی مقصد کے لیے دو کادینا کافی سمجھتا ہے۔اس لیے اس مرض سے بچنے کی