دیکھا کہ آنحضرت ﷺ نہیں ہیں۔میں بہت حیران ہوئی اور آپ کو تلاش کیا۔جب کہیں پتہ نہ لگ اتو آپ کو ایک قبرستان میںپایا کہ نہایت الحاح کے ساتھ مناجات کررہے تھے کہ اے میرے خدا! میری روح،میری جان،میری ہڈیوں،میرے بال بار نے تجھے سجدہ کیا۔اب اگر عائشہ ؓ کو اس معاملہ کی خب رنہ ہوتی تو کس کو معلوم ہوتا کہ آپ اپنے رب کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں۔اسی طرح آپ کے مجاہدات و عبادات کا حال تھا۔ چونکہ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کی عادت میں رکھ دیتا ہے کہ وہ اخفاء کرتے ہیں۔اس لیے دنیا کو پورے حالات کی خبر نہیں ہوتی۔وہ دنیا کے لیے تو کچھ کرتے ہی نہین۔جس سے معاملہ اور تعلق ہوتا ہے وہ ہر جگہ جانتا ہے اور دیکھتا ہے۔
سراوعلا نیۃ نیکیاں کرنے کا حکم
پس مومنون کو بھی دو رہی قسم کی زندگی بسر کرنے کا حکم ہے۔
سراوعلا نیۃ (ابراہیم : ۳۲)
بعض نیکیاں ایسی ہیں کہ وہ علانیہ کی جاویں اور اس سے غرض یہ ہے کہ تا اس کی وجہ سے دوسروں کو بھی تحریک ہو اور وہ بھی کریں۔جماعت نماز علانیہ ہی ہے اور اس سے غرض یہی ہے کہ تا دوسروںکو بھی تحریک ہو اور وہ بھی پڑھیں۔اور سِرّاً اس لیے کہ یہ مخلصین کی نشانی ہے جیسے تہجد کی نماز ہے۔یہانتک بھی سراً نیکی کرنے والے ہوتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے خیرات کرے اور دوسرے کو علم نہ ہو۔اس سے بڑھ کر اخلاص مند ملنا مشکل ہے۔انسان میں یہ بھی ایک مرض ہے کہ وہ جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی اسے سمجھیں ۔مگر میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ میری جماعت میں ایسے بھی لوگ ہیں کہ جو بہت کچھ خرچ کرتے ہیں۔مگر اپنا نام تک ظاہر نہیں کرتے۔بعض آدمیوں نے مجھے کئی مرتبہ پارسل بھیجا ہے اور جب اسے کھولا ہے تو اندر سے سونے کا ٹکڑا نکلا ہے یا کوئی انگشتری نکلی ہے اور بھیجنے والے کا کوئی پتہ ہی نہیں۔کسی انسان کے اندر اس مرتبہ اور مقام کا پیدا ہونا چھوٹی سی بات نہیں اور نہ ہر شخص کو یہ مقام میسر آتا ہے۔یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کامل طور پر اﷲ تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات پر ایمان لاتا ہے اور اس کے ساتھ اسے ایک صافی تعلق پیدا ہوتا ہے۔دنیا اور اس کی چیزیںاس کی نظر میں فنا ہو جاتی ہیں اور اہل دنیا کی تعریف یا مذمت کا اُسے کوئی خیال ہی پید انہیں ہوتا۔اس مقام پر جب انسان پہنچتا ہے تو وہ فنا کو زیادہ پسند کرتا ہے اور تنہائی اور تخیلہ کو عزیز رکھتا ہے؎ٰ۔
غرض بدیوں کے ترک پر اس قدر ناز نہ کرو۔جبتک نیکیوں کو پورے طور پر ادا نہ کروگے اور نیکیاں