بھرا ہوا ہے۔وہ طبعًا اپنے آپ کو پردہ میں رکھنا چاہتا ہے۔ایسا کہ کوئی پاکدامن عورت بھی ایسا نہیں رکھتی۔یہ امر اُن کی فطرت ہی میں ہوتا ہے۔ انبیاء ورسل کی خلوت پسندی یہ مت سمجھو کہ انبیاء ورسل اپنے مبعوث ہوین کے لیے درخواست کرتے ہیں۔ہرگز نہیں۔وہ تو ایسی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں کہ بالکل گمنامی رہیں اور کوئی ان کو نہ جانے۔مگر اﷲ تعالیٰ زو رسے اُن کو حجروں سے باہر نکالتا ہے۔ہر ایک نبی کی زندگی ایسی ہی تھی۔آنحضرت تو دنیا سے پوشیدہ رہنا چاہتے تھے۔یہی وجہ تھی جو غار حرا میں چھُپ کر رہتے اور عبادت کرتے رہتے۔ان کو کبھی وہم بھی نہ آتا تھا کہ وہ وہاں سے نکل کر کہیں : یا ایھا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا (الاعراف ۱۵۹) آپ کا منشاء یہی تھا کہ پوشیدہ زندگی بسر کریں۔مگر اﷲ تعالیٰ نے یہ نہ چاہا۔اور آپؐ کو مبعوث فرماکر باہر نکالا۔اور یہ عادت اﷲ ہے کہ جو کچھ بننے کی آرزو کرتے ہیں وہ محروم رہتے ہیں اور جو چھپنا چاہتے ہیں اُن کو باہر نکالتا اور سب کچھ بنادیتا ہے۔پس یقینا سمجھو کہ میں بھی تنہائی کی زندگی کو پسند کرتا ہوں۔وہ زمانہ جو مجھ پر گذرا ہے اس کا خیال کرکے مجھے اب بھی لذت آتی ہے۔میں طبعاً خلوت پسند تھا مگر خدا تعالیٰ نے مجھے باہر نکالا۔پھر اس حکم کو میں کیونکر رد کر سکتاتھا؟ میں اس نمودونمائش کا ہمیشہ دشمن رہا۔لیکن کیا کروں ۔جب اﷲ تعالیٰ نے یہی پسند کیا تو میں اس میں راضی ہوں اور اس کے حکم سے منحرف ہونا بھی پسند نہیں کرسکتا۔اس پر دنیا کے جوجی میں آئے کہے میں اس کی پروا نہیں کرتا۔ سچے موحد یہ خوب سمجھ رکھو کہ سچے موحد وہی ہیں جو ذرہ بھر نیکی ظاہر نہیں کرتے اور نہ سچائی کے قبول کرنے میں دنیا سے ڈرتے ہیں۔اگر دنیا ان کے کسی فعل سے بدکتی ہے، تو انہیں پروا نہیں۔بعض کہتے ہیں کہ صفابہؓ جس قدر مجاہدہ کرتے تھے یا روزہ رکھتے تھے۔آنحضرت ﷺ سے ایسا ثابت نہیں۔صحابہؓ میں سے بعض بعض قریب قریب رہبانیت کی زندگی کے پہنچ جاتے ۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے (معاذ اﷲ) بڑھے ہوئے تھے۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آنحصرت ﷺ کو تو اﷲ تعالیٰ نے جبرواکراہ سے باہر نکالاتھا۔آپ کی وہ عادت جو اخفاء کی تھی دور نہ ہوئی تھی۔کسی کو کیا معلوم ہے کہ آپ پوشیدہ طور پر کس قدر مجاہدات اور عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی میرے گھر میں باری تھی۔رات کو جب میری آنکھ کھلی تو میں نے