اور اس طرح پر اس دھوکا سے سیٹھ صاحب بچ گئے۔
غرض بات یہ ہے کہ جس طرح دنیوی امور میں دھوکے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح پر ان گدی نشینوں اور علماء کے دھوکے ہیں جو اس سلسلہ کی مخالفت میں مختلف قسم کی روکیں پید اکرتے ہی۔بہت سے لوگ جو سادہ دل ہوتے ہیں اور ان کی پوری واقفیت اس سلسلہ کی نہیں ہوتی اُن کو دھوکا لگ جاتا ہے اور وہ ناراستی کے دوست ہو جاتے ہیں۔پس خدا تعالیا کا فضل ہی ہو تو انسان روحانی طور پر جوہر شناس ہوجائیں۔بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں جو اس جوہر کوشناخت کرتے ہیں۔
مجاہدہ اور دعا سے کام لیں
بہرحال میرا مقصد اس سے یہ ہے کہ نرا بدیوں سے بچنا کوئی کمال نہیں۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ اسی پربس نہ کرے۔نہیں بلکہ انہیں دونو کمال حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔جس کے لیے مجاہدہ او ردعا سے کام لیں۔یعنی بدیوں سے بچیں اور نیکیا کریں۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ خد اکو سادہ نہ سمجھ لے کہ وہ مکر و فریب میں آجائے گا۔جو شخص سفلہ طبع ہو کر خد اتعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتاہے اور نیکی اور رستبازی کی چادر کے نیچے فریب کرتا ہے۔وہ یاد رکھے کہ خد اتعالیٰ اُسے اور بھی رسوا کرے گا۔
فی قلوبہم مرض فزادھم اﷲ مرضا (البقرۃ : ۱۱)
سچے اخلاص کی نشانی
ایسے ہی لوگوں کے لیے فرمایا ہے۔نفاق اور ریاکاری کی زندگی لعنتی زندگی ہے۔یہ چھپ نہیں سکتی۔آخر ظاہر ہو کر رہتی ہے اور پھر سخت ذلیل کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کسی چیز کو چھپاتا نہیں،نہ نیکی کو نہ بدی کو۔سچے نیکوکار اپنی نیکیو کو چھپاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ انہیںظاہر کردیتا ہے۔حضرت موسیٰ ؑکو جب حکم ہوا کہ تو پیغمبر ہو کر فرعون کے پاس جو تو انہوں نے عذر ہی کیا۔اس میں سر یہ تھا کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے لیے پورا اخلاص رکھتے ہیں وہ نمود اور ریا سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔سچے اخلاص کی یہی نشانی ہے کہ کبھی خیال نہ آوے کہ دنیا ہمیں کیا کہتی ہے۔جو شخص اپنے دل میں اس امر کا ذرا بھی شائبہ رکھتا ہے وہ بھی شکر کرتا ہے۔سچا مخلص اس امر کی پروا ہی نہیں کرتا کہ دنیا اُسے نیک کہتی ہے یا بد۔
میں نے تذکرۃ الاولیاء میں دیکھ اہے کہ ایک نیک آدمی جب چھپ کر مناجات کرتا ہے تو اس کی عجیب حالت ہوتی ہے۔وہ اپنے ان تعلقات کو جو خدا تعالیٰ سے رکھتا ہے۔کبھی ظاہر کرنا نہیں چاہتا۔اگر اس مناجات کے وقت اتفاق سے کوئی آدمی آجاوے تو وہ ایسا شرمندہ ہوتا ہے جیسے کوئی زنا کار عین حالت زنا میں پکڑا جاوے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ ہر نیک آدمی جس کے دل میں اخلاص