ہوتے ۔ان کے اعمال میں زندگی کی روح نہیں ہوتی۔لیکن جب انسان اس سفلی زندگی سے نکل ٔتا ہے تو اس کے اعمال میں اخلاص ہوتا ہے۔وہ ہر قسم کی ناپاکیوں سے الگ ہو جاتا ہے۔پھر اُسے وہ قوت اور طاقت ملتی ہے کہ وہ شئے اور امانت اﷲ جس کو اُٹھانا مشکل ہے وہ اُٹھالیتا ہے جس کی اطلاع فرشتوں کو بھی نہیں ہوتی۔وہ بھی یہی نماز روزہ کرتے ہیں اور دنیا بھی یہی کرتی ہے۔مگر اُن کی نماز اور دنیا داروں کی نماز میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔حضرت سید عبد القادر جیلانی ؓ بڑے مخلص اور شان کے لائق تھے۔کیا ان کے عہد میں لوگ نماز روزہ نہ کرتے تھے؟ پھر ان کو سب پر سبقت اور فضیلت کیوں ہے؟ اس لیے کہ دوسروں میں وہ بات نہ تھی جو اُن میں تھی۔یہ ایک روح ہوتی ہے جب پیدا ہو جاتی ہے تو ایسے شخص کو اﷲ تعالیٰ اپنے برگزیدوں میں شامل کرلیتا ہے۔لیکن وہ ملعونی زندگی خدا تعالیٰ کو منظور نہیں جو نماز اور روزہ کی حالت اور صورت میں ریاکاری اور نصنع سے آدمی بنالیتا ہے ایسے لوگوں میں زبان کی چالاکیاں اور منطق بڑھ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کو لاف و گزاف پسند نہیں۔وہ ناراض ہوجاتاہے۔اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ و صدقات کسی وقعت اور قدر کے لائق نہیں جن میں اخلاص نہ ہو بلکہ وہ لعنت ہیں۔یہ اسی وقت بابرکت ہوتے ہیں، جب دل اور زبان میں پوری صلح ہو۔
خوب یاد رکھو کہ اﷲتعالیٰ کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا۔وہ دل کے نہاں درنہاں اسرار سے واقف ہے۔انسان جو محدود العلم ہے اور جس کی نظر وسیع نہیں ہے دھوکا کھا سکتا ہے۔ہمارے دوست سیٹھ عبد الرحمٰن صاحب یہاں قادیان ہی میں میرے پاس موجود تھے۔ایک شخص کابل کی طرف کا رہنے والا چند ٹکڑے پتھے کے یہاں لایا اور ظاہر کیا کہ وہ ہیرے کے ٹکڑے ہیں۔وہ پتھر بہت چمکیلے اور آبدار تھے۔سیٹھ صاحب کو وہ پسند آگئے اور وہ ان کی قیمت میں پانسو روپے دینے کو تیار ہو گئے اور پچیس روپے یا کچھ کم و بیش ان کو دے بھی دییء۔پھر اتفاقاً مجھ سے مشورہ کیا کہ میں نے یہ سودا کیا ہے،آپ کی کیا رائے ہے۔میں اگر چہ ان ہیروں کی شناخت اور اصلیت سے ناواقف تھا،لیکن روحانی ہیرے جو دنیا میں کمیاب ہوتے ہیں یعنی پاک حالت کے اہل اﷲ جن کے نام پر کئی جھوٹے پتھر یعنی مُزَدِّر لگو اپنی چمک دمک دکھا کر لوگوں کو تباہ کرتے ہیں۔اس جوہر شناسی میں مجھے دخل تھا۔اس لیے میں نے اس ہنر کو اس جگہ برتا اور سیٹھ صاحب کو کہا کہ جو کچھ آپ نے دیا ہے وہ تو واپس لینا مشکل ہے لیکن میری رائے یہ ہے کہ پانسوروپیہ دینے سے پہلے کسی اچھے اور قابل جوہری کو یہ پتھر دکھلا لینے چاہیں۔اگر درحقیقت ہیرے ہوئے تو روپیہ دے دینا۔چنانچہ وہ پتھر مدراس میں ایک جوہری کے شناخت کرنے کے لیے بھیجے گئے ارو دریافت کیا گیا کہ ان کی کیا قیمت ہے۔وہاں سے جواب آیا کہ نرے پتھر ہیں ہیرے نہیںہیں