آنحضرت ﷺ نے جب دعویٰ کیا تو غور کرو کہ کس قدر مخالفت کا بازار گرم تھا۔ایک طرف مشرک تھے۔دوسری طرف عیسائی بے حد جوش دکھارہے تھے جنہوں نے ایک عاجز انسان کو خدا بنا رکھا تھا اور ایک طرف یہودی سیاہ دل تھے۔یہ بھی اندر ہی اندر ریشہ دوانیاں کرتے اور مخالفوں کو اُکساتے اور اُبھارتے تھے۔غرض جس طرف دیکھو مخالف ہی مخالف نظر آتے تھے۔قوم دشمن،پرائے دشمن،جدھر نظر اُٹھائو دشمن ہی دشمن تھے۔ایسی حالت اور صورت میں وہ زنجبیلی شربت ہی تھا جو آپ کو اپنے پیغام رسالت کی تبلیغ کے لیے آگے ہی آگے لے جاتا تھا۔کسی قسم کی مخالفت کا ڈر آپ کو باقی نہ رہا تھا۔اس راہ میں مرنا سہل اور آسان معلوم ہوتا تھا؛ چنانچہ صحابہؓ اگر موت کو اس راہ میں آسان اور آرام وہ چیز نہ سمجھ لیتے تو کیوں جانیں دیتے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جبتک یہ شربت نہیں پیتا ایمان کا ٹھکانا نہیں۔ ’’قصور میں ایک شخص قادر بخش تھا۔بڑا موحد کہلاتا تھا۔گورنمنٹ کی اس وقت اس فرقہ پر ذرا نظر تھی۔ڈپٹی کمشنر نے اس کو ذرا دھمکایا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گھر آکر اس نے رنڈیوں کا ناچ کرادیااور اپنے تمام طریق بدل دیئے۔اس غرض سے کہ تا ظاہر ہو جاوے کہ میں اس فرقہ سے الگ ہوں۔اب بتائو کہ ایسا ایمان کیا کام دے سکتا ہے؟وہ انسان بھی کچھ انسان ہو سکتا ہے جو خدا سے انسان کو مقدم کر لیتا ہے۔میں یقینا کہتا ہوں کہ اسکا ایمان ایک کوڑی قیمت نہیں رکھتا ۔یہی وجہ ہے جو ایمان کے برکات اور ثمرات نہیں ملتے‘‘۔ عام لوگوں اور اہل اﷲ کی عبادات میں فرق بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز روزہ کی وجہ سے برکات حاصل نہیں ہوتے۔وہ غلط کہتے ہیں۔نماز اور روزہ کے برکات اور ثمرات ملتے ہیں اور اسی دنیا میں ملتے ہیں۔لیکن نماز روزاہ اور دوسری عبادات کو اس مکام اور جگہ تک پہنچانا چاہیے جہاں وہ برکات دیئے ہیں۔صحابہؓ کا سارنگ پیدا کرو۔آنحصرت ﷺ کی کامل اور سچی اتباع کرو۔پھر معلوم ہوگا کہ کیا کیا برکات ملتے ہیں۔ میں صاف صاف کہتا ہوں کہ صحابہؓ میں ایس اایمان موجود تھا جو تم میں نہیں۔انہوں نے خدا تعالیٰ کے لیے اپنا فیصلہ کر لیا تھا۔ایسے لوگ قبل از موت مرجاتے ہیں اور قبل اس کے کہ قربانی دیں اوہ سمجھتے ہیں کہ دے چکے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ کیا ابو بکر ؓ کا درجہ نماز،روزہ صدقات اور خیرات کی وجہ سے ہے؟ نہیں بلکہ اس چیز کے ساتھ اس کا درجہ بڑا ہے جو اس کے دل میں ہے۔حقیقت میں وہی بات ہے جو ان اعمال کا بھی موجب اور باعث ہوتی ہے۔جس قدر لوگ اہل اﷲ گذرے ہیں اور ان کے مدارج نرے ان اعمال کی وجہ سے نہیں ہیں ۔ان اعمال میں اور بھی شریک ہیں۔مسجدیں بھری پڑی ہیں؎ٰ۔ان لوگوں کی زندگی سفلی ہوتی ہے۔یہ دنیا اور اس کی گندگیوں کو چھوڑ کر الگ نہیں