تو طاقت آجاتی اور اس کے احکام کی تعمیل کے لیے ایک جوش اور اضطراب پیدا ہوتا۔
غرض بدظنی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔جونیک ظنی سے خدا تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لاویں تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔اﷲ تعالیا کی قدرتوں پر ایمان ہو تو پھر کیا ہے جو نہیں ہوسکتا۔بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ فلاں گناہ کیونکر چھوٹ سکتا ہے۔یہ باتیں اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں پر کامل ایمان نہیں ہوتا۔چونکہ اس کوچہ سے نامحرم ہوتے ہیں اس لیے ایسے اوہام طبیعت میں پیدا ہوتے ہیں۔مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ خدا جس نے نطفہ سے انسان کو بنادیا ہے وہ اس انسان کو ہر قسم کے پاک تغیرات کی توفیق عطا کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔ہاں ضرورت ہے طلبگار دل کی۔
زنجبیلی مقام
میں پھر اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے کہتا ہوں کہ انسان کا اتنا ہی کمال نہیں ہے کہ بدیاں چھوڑدے۔کیونکہ اس میں اور بھی شریک ہیں یہانتک کہ حیوانات بھی بعض امور میں شریک ہوسکتے ہیں۔بلکہ انسان کامل نیک تب ہی ہوتا ہے کہ نہ صرف بدیوں کو ترک کرے بلکہ اس کے ساتھ نیکیوں کو بھی کامل درجہ تک پہنچاوے۔پس جب ترک شر کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اُسے کافوری شربت پلاتا ہے۔جس سے یہ مراد ہے کہ وہ جوش اور تحریکیں جو بدی کے لیے پیدا ہوتی تھیں سرد ہو جاتی ہیں اور بدی کے مواد دب جاتے ہیں۔اس کے بعد اس کو دوسرا شربت پلایا جاتا ہے جو قرآن کریم کی اصطلاح میں شربت زنجبیلی ہے جیسا کہ فرمایا
یسقون فیھا کاساکان مزاجھا زنجبیلا (الدھر : ۱۸)
زنجبیل مرکب ہے زنا اور جبل سے زناالجبل کے یہ معنے ہیں کہ ایسی حرارت اور گرمی پیدا ہو جاوے کہ پہاڑ پر چڑھ جاوے۔زنجبیل میں حرارت غریزی رکھی گئی ہے اور اس کے ساتھ انسان کی حرارت غریزی کو فائدہ پہنچتا ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بڑے بڑے کام جو میری راہ میں کئے جاتے ہیں جیسے صحابہؓ نے کئے۔یہاں تک کہ انہوں نے اپنی جانوں سے دریغ نہیں کیا۔خدا تعالیٰ کی راہ میںس ر کٹوا دینا آسان امر نہیں ہے۔جس کو بچے چھوٹے چھوٹے اور بیوی جوان ہو۔جبتک کوئی خاص گرمی اس کی روح میں پیدا نہ ہو۔کیونکر انہیں یتیم اور بیوہ چھوڑ کر سر کٹوالے۔میں صحابہؓ سے بڑھ کر کوئی نمونہ پیش نہیں کرسکتا۔آنحضرت ﷺ کا نمونہ اعلیٰ درجہ کی قوت قدسی اور تزکیۂ نفس کی طاقت کا ہے اور صحابہؓ کا نمونہ اعلیٰ درجہ کی تبدیلی اور فرمانبرداری کا ہے۔پس ایسی طاقت اور یہ قوت اسی زنجبیلی شربت کی تاثیر سے پیدا ہوتی ہے اور حقیقت میں کافوری شربت کے بعد طاقت کو نشونما دینے کے لیے اس زنجبیلی شربت کی ضرورت بھی تھی۔اولیاء اور ابدال جو خدا تعالیٰ کی راہ میں سرگرمی اور جوش دکھاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ زنجبیلی جام پیتے رہتے ہیں۔