ان اﷲ علی کل شئی قدیر (البقرۃ : ۱۴۹) اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ جب گنہگار لوگ جہنم میں ڈالے جاویں گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمارا ایک ہی گناہ بہت بڑا ہے کہ تم نے خدا پر بدظنی کی۔اگر بدظنی نہ کرتے تو کامل اور مومن بن کر آتے۔حقیقت میں یہ بڑا گناہ ہے۔جو انسان اﷲ تعالیا پر بدظن ہو جاوے۔باقی جس قدر گناہ ہیں وہ اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر اﷲ تعالیٰ کو حقیقی رازق یقین کرے تو پھر چوری،بددیانتی اور فریب سے لوگوں کا مال کیوں مارے؟ افسوس نادان انسان سمجھتا ہے۔ایہہ جہان مٹھا اگلا کس نے ڈٹھا۔یہ بھی خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے۔اگر اسے صادق یقین کرتے تو نہ کہتے۔بلکہ یہ کہتے کہ ؎ دنیا روزے چند آخر باخدا وند دنیا کو چند روز یقین کرکے اس کی عمارتوں اور آسائشوں اور ہر قسم کی دولتوں سے دل نہ لگاتے، بلکہ ہر وقت موت کے فکر میں لرزاں ترساں رہ کر عاقبت کا خیال کرتے اور اس کا بندوبست کرتے کہ آخر مر کر اﷲتعالیٰ کے حضور جانا ہے۔مگر اب تو یہ حالت ہے کہ عام طو رپر ایک غفلت چھائی ہوئی ہے اور لوگ اس طرح پر مصروف اور دلدادۂ دنیا ہیں۔گویا انہوںنے کبھی یہاں سے جانا ہی نہیں اور موت کوئی چیز ہی نہین یا کم از کم اس کا اثر اُن پر کچھ بھی ہونے والا نہیں۔ خدا تعالیٰ پر بدظنی کے نتائج یہ بدخیالی،یہ غفلت اور خود رفستگی کیوں پید اہوئی؟اس کی جڑ بھی وہی خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے۔اس کو صادق یقین نہیں کیا۔انسان کی عادت ہے کہ جس کام پر اس کی آنکھ کھل جاوے اور کسی امر کو یہ اپنے لیے مفید سمجھ لے وہی کرتا ہے۔ایک تاجر کو معلوم ہو جاو ے کہ فلاں ملک میں اگر اس کا مال جواے تو اس ے اس قدر فائدہ ہوگا تو ضرور اپنا مال وہیں لے جائے گا۔ایسا ہی ایک زمیندار اور دوسرے اہل حرفہ کرتے ہیں۔اسی طرح پر اگر انسان کی آنکھ کھل جاوے اور عاقبت کا فکر اسے دامنگیر ہو اور وہ ایک یقین اپنے اندر پیدا کرے کہ خدا کے حضور جوابدہ ہونا ہے تو اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میںظاہر فرمایا ہے کہ اگر مجھ پر نیک ظن ہوتا تو مشکل کیا تھا؟ کیا پانچ وقت نماز پڑھنا مشکل تھا؟ ہرگز نہیں۔خدا تعالیٰ کا خوف جب غالب ہو تو آدمی کیسا ہی مصروف ہو۔اسے چھوڑ کر بھی ادا کرسکت اہے۔اس وقت ہم سب یہان بیٹھے ہیں اور ایک کام میں مصروف ہیں۔لیکن اگر خدانخواستہ اس وقت زلزلہ آجاوے تو ہم میں سے کوئی یہاں رہ سکتا ہے؟سب کے سب لوگ بھاک جاویں یہاں تک کہ مریض اور ضعیف بھی دوڑ پڑیں۔اصل بات یہ ہے کہ خوف کے ساتھ ایک قوت آتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ ہوتی