چنانچہ فرمایا
یسقون فیھا کاسا کان مزا جھاز نجبیلا ۰الدھر : ۱۸)
اور ایسے جام انہیں پلائے جاتے ہیں جو زنجبیلی شربت کے ہوتے ہیں۔
بلند روحای مراتب حاصل کرنا انسان کے لیے نا ممکن نہیں
انسان کو یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہیے کہ ایسا مرتبہ حاصل ہونا ناممکن ہے۔یہ سب کچھ مل سکتا ہے اور ملتا ہے۔جن لوگوں نے یہ مراتب اور مدارج حاصل کئے وہ بھی تو آخر انسان ہی تھے۔
اصل بات یہ ہے کہ جب انسان کے سامنے اس کے جرائم کی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے تو وہ اسے دیکھ کر گھبرا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس سے بچنا مشکل ہے،مگر یہ اس کی انسانی کمزوری کا نتیجہ ہے۔بہت سے لوگ یورپ میں بھی اس خیال کے موجود ہیں۔جو یہ کہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا فقط اتنا ہی منشاء ہے کہ انسان سے یہ اقرار کرایا جاوے کہ وہ ان کی تعلیم پر عمل کرنے کے ناقابل ہے یا اس پر قادر نہیں۔ایسے لوگ اﷲ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت سے محض ناواقف ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر غور نہیں کیا۔اگر وہ خود انسان کی اپنی حالت اور ان انقلابات پر ہی غور کرتے جن کے اندر سے وہ گذرا ہے تو اس قسم کا کلمہ منہ سے نہ نکالتے ۔مگر ان کے علم اور معرفت کی کمزوری نے انہیں ایسا خیال کرنے کا موقعہ دیا۔
دیکھو انسان پر کس قدر انقلاب آئے ہیں۔ایک زمانہ انسان پر وہ گذرا ہے کہ وہ صرف نطفہ کی حالت میں تھا اور وہ وہ حالت تھی کہ کچف بھی چیز نہ تھا۔اگر زمین یا کپڑے پر گرتا تو چند منٹ کے اندر خشک ہو جاتا پھر علقہ بنا۔اس میں ذرابستگی پیدا ہوئی۔اس وقت بھی اس کی کچھ ہستی نہ تھی۔پھر مضغہ ہوا۔پھر ایک اور زمانہ آیا کہ جنین کی صورت میں اس میں جان آئی۔بعد اس کے پیدا ہوا۔پھر شیر خوار سے بلوغ تک پہنچا۔وغیرہ وغیرہ۔
اب غور کرو کہ جس قادر خدا نے انسان کو ایسے ایسے انقلابات میں سے گذار کر انسان بنادیا ہے اور اب ایسا انسان ہے کہ گویا عقل حیران ہے کہ کیا سے کیا بن گیا۔ناک منہ اور دوسرے اعضاء پر غور کرو کہ خدا تعالیٰ نے اسے کیا بنایا ہے۔پھر اندرونی حواس خمسہ دیئے اور دوسرے قویٰ ارو طاقتیں اس کو عطا کیں۔پس خدائے قادر نے اس زمانہ سے جو یہ نطفہ تھا،عجیب تصرفات سے انسان بنا دیا۔کیا اس کیلئے مشکل ہے کہ اس کو پاک حالت میں لے جاوے؟ اور جذبات سے الگ کردے؟ جو شخص ان باتوں پر غور کرے گا وہ بے اختیار ہو کر کہہ اُٹھے گا: