انسان کے حق میں موت ہی اچھی ہوتی ہے کہ خد اتعالیٰ اسے اس ذریعہ سے آئندہ لغزش سے بچالیتا ہے۔ (جیسے بعض کافروں کے حق میں زندگی اس لیے بہتر ہوتی ہے کہ اُن کو آئندہ ایمان نصیب ہو جاتا ہے۔ایسے ہی بعض مومن کے حق میں موت اس لیے بہتر ہوتی ہے کہ اگر وہ زندہ رہتا تو کافر ہو جاتا ) کہ اس کا خاتمہ کفر پر نہ ہو۔
یہ طاعون اس قسم کی ہے جیسے کہ آنحضرت ﷺ کو کفار کے عذاب کا وعدہ تھا۔لیکن پھر صحابہ کرامؓ نے بھی آخر اُس سے حضہ لیا اور اکثر شہید ہوئے۔کفر کا استیصال ان کی شہادت کا ثبوت ہے پس اسی طرح یہاں بھی استیصالِ کفر ہوگا۔
کر بلائیست سیرِ ہر آنم
صد حسین است در گریبانم
ایک صاحب نیجو کہ بیعت شدہ ہیں، عرض کی کہ بعض لوگ صرف اس لیے بیعت سے پرہیز کرتے ہیں کہ حضور نے حضرت حسینؓ س یبڑے ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔جیسے کہ یہ شعر مزکورہ بالا ہے۔ایک شخص نے مجھ پر بھی یہ اعتراض کیا مگر چونکہ مجھے اس کی حقیقت معلوم نہ تھی، اس لیے میں ساکت ہو گیا۔
فرمایا کہ :
اول انسان کو اطمینان قلب ہونا چاہیے کہ آیا جس کو میں نے قبول کیا ہے وہ راستباز ہے کہ نہیں۔مختصر کیفیت اس کی یہ ہے کہ جب انسان ایک دعویٰ کا مصدق ہوتا ہے۔اور دعویٰ بھی ایس اہو کہ ا سکی بنا پر کوئی اعتراض نہ قائم ہوتا ہو تو اس قسم کے شکوک کا دروازہ خود ہی بند ہو جاتا ہے۔مثلاً میرا دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح ہوں جس کا وعدہ قرآن شریف اور حدیث میں دیا گیا ہے۔اب جبتک کوئی میرے اس دعوے کا مصدق نہیں ہے تب تک اس کو حق ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ نیک آدمی کے مقابل پر بھی وہ ہم پر اعتراض کرے۔لیکن اگر کوئی بیعت کر کے دعاویٰ کی تصدیق کرتا ہے کہ میں سچا ہوں تو وہ پھر اعتراض کیوں کرتا ہے۔(اُسے چاہیے تھا کہ بیعت سے پیشتر اس بات کا اطمینان حاصل کرتا کہ آیا آپ سچے ہیں کہ نہیں ؎ٰ) اس قسم کے معترضین