سے سوال کرنا چاہیے کہ جس مسیح کے وہ منتظر ہیں۔آیا وہ اُن کے نزدیک ازروئے اعتقاد حسینؓ سے افضل ہے کہ نہیں؟ اگر وہ اُسے افضل قبول کرتا ہے تو پھر ہم تو کہتے ہین کہ ہم وہی ہیں۔پہلے ہمارا وہی ہونا فیصلہ کرے پھر اعتراض خود بخود رفع ہو جائے گا۔ یا د رکھو کہ خدا تعالیٰ کے فیوض بے انتہا ہیں۔جو اُن کو محدود کرتا ہے وہ اصل میں خد اکو محدود کرتا ہیاور اس کی کلام کو عبث قرار دیتا ہے۔وہی بتلاوے کہ اھدنا الصراط المستقیم۔صراط الذین العمت علیھم (الفاجحہ : ۶‘۷) میں جب وہ انہی کمالات اور انعامات کو طلب کرتا ہے جو کہ سابقین پر ہوئے تو اب ان کو محدود کیسے مانا ہے؟ اگر وہ محدود ہیں اور بقول شیعہ بارہ امام تک ہی رہے توپھر سورہ فاتحہ کو نماز میں کیوں پڑھتا ہے۔وہ تو اس کے عقیدہ کے خلاف تعلیم کر رہی ہے اور خدا کو ملزم گردانتی ہیکہ ایک طرف تو وہ خود ہی کمالات کو بارہ امام تک ختم یرتا ہے اور پھر لوگوں کو قیامت تک ان کے طلب کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔دیکھو مایوس ہونا مومن کی شان نہیں ہوتی اور ترقیات اور مرات قرب کی کوئی حد بست نہیں ہے۔یہ بڑی گغلطی ہے کہ کسی فرد خاص پر ایک بات قائم کر دی جاوے۔خدا تعالیٰ نے جیس اخاص طو رپر ذکر کر دیا اور احادیث میں آگیا کہ فلاں زمانہ میں مسیح موعود ہوگااور اس کی علامات ، اس کا کام، اس کے حالات سب بتلادیئے تو اب ہم سے یہ سوال کیوں ہوتاہے کہ تم حسینؓ سے افضل کیوں بنتے ہو۔کیا رسول اﷲ ﷺ نے کہیں فرمایا ہے کہ مسیح موعود حسینؓ سے افضل نہ ہوگا بلکہ کمتر ہوگا۔ایسے معترضوں کو تم یہ جواب دو کہ ہم تو مسیح موعود مان چکے ہیں۔اب تم اس امر کا ثبوت دو کہ آیا وہ امام حسینؓ سے کم ہوگ یا برابر یا افضل؟ بجز توہمات کے اُن کے پاس کچھ بھی نہیںہے۔جیسے ایک لاہوری شیعہ نے لکھاہے کہ آنحضرت ﷺ اور دیگر کل انبیاء نے صرف حسین کی وجہ سے ہی نجات پائی۔ خدا تعالیٰ کا جو معاملہ میرے ساتھ ہے اور وہ میرے ساتھ کلام کرتا ہے ایسا کوئی الہام حسین ؓ کو تو پیش کرو۔میں تو اپنی وحی پر ویسے ہی ایمان لاتا ہوں جیسے کہ قرآن شریف اور توریت کے کلام الٰہی ہونے پر زیادہ سے زیادہ یہ لوگ امام حسین ؓ کی فضیلت میں بعض ظنی احادیث پیش کریں گے اور میں وہ پیش کرتا ہوں جو یقینی ہے اور پھر خدا کا کلام ہے۔بطور تنزل کے میں اگر مان لوں کہ حسین کے الہامات تو پہلے ہی سے ظنی ہیں۔پس دونوں ظنی الہاموں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔خد اتعالیٰ نے جو مراتب میرے بیان کئے ہیں۔مثلاً انت منی بمن زلۃ عرشی۔انت منی بمنزلۃ لا یعلمہا الخلق۔انت منی بمنزلۃ