(۲) دوسری یہ بات ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت مسیح کو معراج کی شب میں اُن تمام انبیاء کی طرح نہیں دیکھا جو کہ وفات پا چکے ہیں بلکہ دوسرے انبیاء کی ارواح کے خلاف حضرت مسیح کو معراج کی شب میں اس ہیئت اور شکل میں پایا جس سے اُن کا بجسدِ عنصری زندہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ (۳) تیسری یہ کہ آنحضرت ﷺ کی وفات پر صحابہؓ کا جماع جو آیت ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (العمران : ۱۴۵) کے ان معنوں پرہوا تھا کہ آنحضرت سے پیشتر جس قدر بنی گزرے ہیں وہ سب فوت ہو چکے ہیں۔یہ بات غلط ہے کیونکہ ان تینوں باتوں میں اﷲ تعالیٰ کا قول‘ آنحضرت ﷺ کی رؤیت اور صحابہؓ کا جاماع سب آجاتا ہے۔پس ان تینوں باتوں پر وہ قسم کھاوے۔ ۴۔ اور چوتھی بات یہ بھی ملالے کہ ہم مفتری ہیں اور ۲۴ سال سے جو الہامات ہم سنارہے ہیں یہ خدا تعالیٰ پر افتراء باند ھتے ہیں۔اور قسم میں یہ بھی کہے کہ اگر اس میں میں نے کوئی بدنیتی کی ہے یا ایسی بات بیان کی ہے جو کہ میرے ذہن میں نہیں ہے تو اس کا وبال مجھ پر نازل ہو۔ فرمایا : اگر یہ لوگ منہاج نبوت کو معیار ٹھہراویں تو آج فیصلہ ہوتا ہے۔ اس مقام پر نواب محمد علی صاحب نے عرض کی کہ ایک شخص نے مجھ سے حضور کے بارے میں بحث کرنی چاہی۔میں نے اُسے کہا کہ اول تم سب کتابیں حضرت مرزا صاحب کی مطالعہ کرو اگر اس میں سمجھ نہ آوے تو ایک ماہ قادین چل کر رہو اور وہاں مرزا صاحب کے حالات وغیرہ کو آنکھ سے دیکھو۔ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمہاری رہنمائی کرے۔ بعض دفعہ موت ہی انسان کے حق میں اچھی ہوتی ہے فرمایا کہ : اگر ہمارا کوئی مرید طاعون س یمرجاتا ہے تو اس پر اعتراض کرتے ہیں؛ حالانکہ خد اتعالیٰ کے کلام میں مطلب ہرگز نہیں ہے کہ صرف بیعت کرنے والا ہی اس سے محفوظ رہیگا، بلکہ اس نے ایک دفعہ مجھے مخاطب کرکے فرمایا الذین امنو اولم یلبسو اایما نہم بظلم (الانعام : ۸۳) یعنی بقدر دعویٰ کے ایمان میں کسی قسم کا ظلم نہ ہو۔خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری وفا، پورا صدق اور اخلاص کا معاملہ ہو اور اس کی شناخت کامل ہو تو وہ شخص اس آیت کا مصداق ہو سکت اہے۔لیکن یہ ایسی بات ہے کہ جس کو سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا کہ آیا فلاں شخص میں پور اصدق و اخلاص ہے کہ نہیں۔بعض وقت ایک