تا ثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابلِ افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کر تاہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نیں کرتا۔عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہیے۔جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لیے رو رو کر دعا کی ہو۔سعدی نے کہا ہے ؎ خدا واند بپو شد ہمسایہ نداند و خرو شد خدا تعالیٰ تو جان کر پر دہ پوشی کرتا ہے،مگر ہمسایہ کو علم نہیں ہوتا اور شور کرتا پھرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا نام ستّار ہے۔تمہیں چاہیے کہ تخلقواباخلاق اﷲ بنو۔ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو،کیونکہ کتاب اﷲ میں جیسا آگیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے۔شیخ سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جلتا ہے اور حسر کرتا ہے۔شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے راہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا اور تونے غیبت کی۔غرضیکہ یہ سلسلہ چل نہیں سکتا۔جبتک رحم،دعا،ستاری،اور مرحمہ آپس میں نہ ہو ۔؎ٰ ۲۱؍جون ۱۹۰۴ء؁ منکروفات مسیح سے قسم کن الفاظ میں لی جائے حضرت اقدس کے ایک مخلص حواری نے عرض کی کہ وزیر آباد میں ایک حافظ صاحب ہیں۔وہ اس بات پر آمادہ ہین کہ وہ قسم کھا کر کہیں کہ عیسیٰ ؑاسی جسدِ عنصری کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ : جو شخص دلیری کر کے شوخی کی راہ سے فتنہ ڈالتا ہے خدا اس سے خدو سمجھ لیتا ہے۔اگر اُس کو قسم کھانی ہے تو تین باتوں کی قسم کھائے۔ (۱) ایک تو یہ کہ فلما توفیتنیمیں سے مسیح کی وفات ہرگز ثابت نہیں ہوتی اور یہاںتوفیتنی کے وہ معنی ہرگز نہیں ہیں جو کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت اس لفظ کے معنی کئے جاتے ہیں۔