سیپ بھی اور دوسری اشیاء مثل سونا اور دوسرے حیوانات کے۔ایسا ہی جماعت کا حال ہوتا ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ کسی بھائی کا عیب دیکھ کر اس کے لیے دعا کریں،لیکن اگر وہ دعا نہیں کرتے اور اس کو بیان کر کے دور سلسلہ چلاتے ہین تو گہان کرتے ہیں۔کونسا ایسا عیب ہے جو کہ دور نہین ہو سکتا ۔اس لیے ہمیشہ دعا کے ذریعہ سے دوسرے بھائی کی مدد کرنی چاہیے۔ حکایت ایک صوفی کے دو مرید تھے۔ایک نے شراب پی اور نالی میں بیہوش ہو کر گرا۔دوسرے نے صوفی سے شکایت کی۔اس نے کہا تو بڑا بے ادب ہے، کہ اسکی شکایت کرتا ہے اور جاکر اُٹھا نہیں لاتا۔وہ اسی وقت گیا اور اُسے اُٹھا کرلے چلا۔کہتے تھے کہ ایک نے تو بہت شراب پی لیکن دوسرے نے کم پی کہ اُسے اُٹھا کر لے جا رہا ہے۔صوفی کا یہ مطلب تھا کہ تونے اپنے بھائی کی غیبت کیوں کی۔آنحضرت ﷺ سے غیبت کا حال پوچھا تو فرمایا یکہ کسی کی سچی بات کا اسکی عدم موجودگی میں اس طرح سے بیان کرنا کہ اگر وہ موجود ہو تو اسے بُرا لگے غیبت ہے۔اور اگر وہ بات اس میں نہیں ہے اور تو بیان کرتا ہے،تو اس کا نام بہتان ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ولا یغتب لعضکم بعضا ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا (الحجرات : ۱۳) اس میں غیبت کرنے کو ایک بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ جو آسمانی سلسلہ بنتا ہے ۔ان میں غیبت کرنے والے بھی ضرور ہوتے ہیں اور اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ آیت بے کار جاتی ہے۔اگر مومنوں کو ایسا ہی مطہر ہونا تھا اور ان سے کوئی بدی سرزد نہ ہوتی، تو پھر اس آیت کی کیا ضرورت تھی؟ بات یہ ہے کہ ابھی جماعت کی ابتدائی حالت ہے۔بعض کمزور ے سخت بیماری سے کوئی اٹھتا ہے۔بعض میں کچھ طاقت آگئی ہے۔پس چاہیے کہ جسے کمزور پاوے اسے خفیہ نصیحت کرے۔اگر نہ مانے توا س کے لیے دعا کرے اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو تو قضا وقدر کا معاملہ سمجھے ۔جب خدا تعالیٰ نے ان کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہیے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سرِدست جوش نہ دکھلایا جاوے۔ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے۔قطب اور ابدال سے بھی بعض وقت کوئی عیب سرزد ہو جاتاہے،بلکہ لکھا ہے القطب قدیز نی کہ قطب سے بھی زنا ہو جاتاہے۔بہت سے چور اور زانی آخر کا رقطب اور ابدال بن گئے۔جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں ہے۔کسی کا بچہ خراب ہو تو اس کی اصلاح کے لیے وہ پوری کوشش کرتا ہے۔ایسے ہی اپنے کسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہیے،بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔قرآن کریم کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلائو اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو بلکہ وہ فرماتا ہے تواصوابالصبر وتواصو ابالمرحمۃ (البلد : ۱۸) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔ مرحمہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور ا سکے لیے دعا بھی کی جاوے۔دعا میں بڑی