مانتے ہیں؛ حالانکہ وہ تب صحیح ہوسکتا ہے جبکہ صعود اول ہو۔قرآن مسیح کی وفات بیان کرتا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ چھت پھاڑ کر آسمان پر چلا گیا۔کیا تقویٰ اس بات کا نام ہے کہ یقین کو ترک کر کے توہمات کی اتباع کی جاوے۔سچے تقویٰ کا پتہ قرآن سے ملتا ہے کہ دیکھ لیوے کہ تقویٰ والوں نے کیا کیا کام کیے ہیں۔
دعا کے ذریعہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو
مذکورہ بالا تقریر کے بعد ایک صاحب نے عرض کی کہ حضور بعض احمدی بھائی ایسے ہیںکہ انہوں نے بیعت کی ہوئی ہے اور اخلاص بھی رکھتے ہیں،مگر بعض اقوال اورحرکات اُن سے بیجا ظاہر ہوتی ہیں۔بعض ان میں سے احادیث کے قائل نہیں۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا :
اصل بات یہ ہے کہ سب لوگ ایک طبقہ کے نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ بھی قرآن شریف میں مومنوں کے طبقات بیان کرتا ہے۔
منھم ظالم لنفسہ ومنہم مقتصد ومنہم سابق بالخیرات (فاطر : ۳۳)
کہ بعض ان میں سے اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ رو اور بعض سبقت کرنے والے۔
دوسری یہ بات ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے بھی تو ترقی آہستہ آہستہ ہی کی تھی۔ایمان میں بھی اول عمل میں بھی۔لکھا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے،تو ایک صحابی سے آپ نے ایک ٹکڑا زمین کا مسجد؎ٰ بنانے کے لیے طلب کیا۔اس نے عذر کیا اور کہا کہ مجھ کو آپ درکار ہے۔اب یہ کس قدر گناہ کی بات تھی کہ خدا تعالیٰ کا رسول مسجد کے لیے زمین طلب کرے اور یہ باوجود مرید ہونے کے اپنی نفسانی ضرورت کو دین کی ضرورت پرترجیح دیتا ہے،لیکن آخر وہی صحابہؓ تھے کہ جنہوں نے اﷲ کے لیے اپنے سر کٹوائے۔ترقی ہمیشہ رفتہ رفتہ ہوتی ہے۔ایک سال انسان کچھ کرتا ہے،دوسرے سال کچھ،لیکن اگر بدظنی کریں تو اُس کی مثال یہ ہوگی کہ ایک مریض ہمارے پاس آتا ہے جو کہ طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہے ارو ہم اُسے ایک دو دن دوا دیکر نکال دیں اور پورے طور پر لگ کر علاج نہ کریں۔ہمارا کام تو رات دن اُن کے لیے دعا، تصرع اور ابتہال میں لگا رہتا ہے۔مبلغین کا یہ کام نہیں ہوتا کہ ہر ایک بات پر چڑ کر لوگوں سے متنفر ہوتے رہیں۔ابھی یہ لوگ قابل رحم ہیں اور خدا تعالیٰ اُن کی اصلاح کے سامان کر رہا ہے۔علاوہ ازیں سب ایک درجہ کے نہیں ہوتے۔صحابہؓ میں سے بعض اس درجہ کے تھے کہ عنقریب نبی کے مقام پر پہنچ جاویں اور بعض ادنیٰ درجہ کے۔جیسے دریا میں موتی بھی ہوتا ہے اور مونگا بھی اور