لیے اور نئی طاقت تجھ سے طلب کرتے ہیں جیسے حافظ نے کہا ہے ؎ ما بداں منزل عالی نتوانیم رسید ہاں اگر لطف شما پیش نہد گامے چند پس خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک متقی ہونا اور شئے ہے اور انسانوں کے نزدیک متقی ہونا ارو شئے۔مسیح علیہ السلام کے وقت جو مخالفوں کے جتھے وغیرہ بنتے تھے۔اس کا باعث بھی یہی تھاکہ جو عام لوگ یہود کہ نزدیک مسلم تھے ارو متقی پرہیز گار تسلیم کیے جاتے تھے وہ مخالف تھے۔اگر وہ مخالف نہ ہوتے تو جتھے وغیرہ نہ بنتے۔آنحضرت ﷺ کے وقت میں بھی یہی حال تھا۔عجب، بخل،ریا، نمود اور وجاہت کی پاسداری وغریہ کی باتیں تھیں، جنہوں نے حق کی قبولیت سے اُن کو روکے رکھا۔غرضیکہ تقویٰ مشکل شے ہے۔ جسے اﷲ تعالیٰ عطا کرتا ہے تو اس کی علامات بھی ساتھ ہی رکھ دیتا ہے۔سچی بات یہ ہے کہ حق جب ظاہر ہو تو جو اسے خواہ نخواہ رد کرتا ہے اور دلائل ۔معقولات، منقولات اور خدا تعالیٰ کے نشانوں کو ٹالتا جاوے وہ کب متقی ہو سکتا ہے۔؎ٰ سچی بات یہ ہے کہ حق جب ظاہر ہو تو اُسے جو خواہ نخواہ رد کرتا ہے اور دلائل معقولات منقولات اور خدا تعالیٰ کے نشانات کو ٹالتا جاتا ہے وہ ہرگز متقی نہیں ہوسکتا۔متقی کوتو ترساں اور لرزاں ہونا چاہیے۔کیا دنیا میں ایس اہوا ہے کہ چوبیس سال سے برابر ایک انسان رات کو منصوبہ بناتا ہے اور صبح کو خدا کی طرف لگا کر کہتا ہے کہ مجھے یہ وحی یا الہام ہوا اور خدا تعالیٰ اس سے مؤاخذہ نہیں کرتا۔اس طرح سے تو دنیا میں اندھیر پڑ جاوے اور مخلوق تباہ ہو جاوے۔متقی تو ایک ہی بات سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور یہاں تو ہزاروں ہیں۔زمانہ الگ پکار رہا ہے۔احادیث منکم منکم کہ رہی ہیں۔سورہ نور میں بھی منکم لکھا ہے۔ قساوت قلبی اور بہائم کی طرح جو زندگی بسر ہو رہی ہے وہ الگ بتارہی ہے۔صدی کے سر پر کہتے تھے کہ مجّدد آتا ہے۔اب ۲۲ سال بھی ہو چکے ۔کسوف و خسوف بھی ہولیا۔طاعون بھی آگئی،حج بھی بند ہوا۔ان سب باتوں کو دیکھ کر اگر اب بھی یہ لوگ نہیں مانتے تو ہم کیونکر جانیں کہ ان میں تقویٰ ہے۔ہم نے بار بار کہا کہ آئو اور جن باتوں کا تم کو سوال کرنے کا حق پہنچتا ہے وہ پوچھو۔ہاں یہ نہیں ہوگا کہ قرآن شریف تو کچھ کہے اور تم کچھ کہو اور ایسے اقوال پیش کرو جو اس کے مخالف ہوں۔مسیح کا نزول جسمانی آسمان سے