کے انعکاسے سے میں ظاہر ہوا۔ اور پھر فرمایا کہ ایک زمانہ میں وہ خود پوشیدہ تھا۔ پھر وہ روشنی جو مجھے دی گئی اس روشنی نے اس کو ظاہر کیا۔یہ ایک مشہور مسئلہ ہے کہ نور القمر مستفاض من نور الشمس۔ یعنی چاند کا نور سورج کے نور سے فیض حاصل کرنے والا ہے۔ پس اس الہام میں اول خدا تعالیٰ نے اپنے تئیں سورج قرار دیا اور اس اس کے انوار اور فیوض کے ذریعہ سے مجھ میں نور پیدا ہوان بیان فرمایا۔اس لیے میں قمر کہلایا۔پھر چونکہ میری روشنی سے جو مجھے دی گئی ا س کا نام روشن ہوا۔ اس لیے اس بنا پر مجھے سورج قرار دیا گیا اور خدا تعالیٰ نے آپ کو قمر قرار دیا کیونکہ وہ میرے ذریعہ سے ظاہر ہوا۔ اور اس نے اپنا زندہ وجود میرے وسیلہ سے لوگوں پر نمایاں کیا۔ یہ شمس و قمر کا خطاب الہام کے دوسرے حصہ کی تشریح ہے کہ انت منی وانا منک یہ ایک ایسی نظیر ہے جو انسان کے وہم و گمان میں نہیں آسکتی؎ٰ۔ تقریر حضرت مسیح موعود ؑ جو ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۵ء؁ کو قبل دوپہر آپ نے مہمان خانہ جدید میں فرمائی میں نے یہ امر پیش کیا تھا کہ ہماری جماعت میں سے ایسے لوگ تیار ہوین چاہیے جو واقعی طو رپر دین سے واقف ہوں اور اس لائق بھی ہوں کہ وہ ان حملوں کا جو بیرونی اور اندرونی طو ر پر اسلام پر ہو رہے ہیں،پورا پورا جواب دے سکیں ؎ٰ۔اسلام کی اندرونی بدعات اس حدتک پہنچ گئی ہیں کہ ان کی وجہ اور جہالت سے ہم کافر ٹھہرائے گئے ہیں۔اور ہم ایسی کراہت کی نظر سے دیکھے گئے ہیں کہ حال کے مخالف علماء کے فتووں کے موافق ہماری جماعت مسلمانوں کے قبرستان میں بدی داخل ہونے کے قابل نہیں۔