بای ارض تدفن نہیں لکھا۔ صلحاء کے پہلو میں دفن بھی ایک نعمت ہے۔ حضرت عمر ؓ کے متعلق لکھاہے، کہ مرض الموت میں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے کہلا بھیجا کہ آنحضرت ﷺ کے پہلو میں جو جگہ ہے انہیںد ی جاوے۔ حضرت عائشہ ؓ نے سے کام لے کر وہ جگہ ان کو دیدی تو فرمایا :
مابقی لی ھم بعد ذالک
یعنی اس کے بعد اب مجھے کوئی غم نہیں۔جبکہ میں آنحصرت کے روضہ میں مدفون ہوں۔مجاورت بھی خوشاحالی کا موجب ہوتی ہے۔ میں اس کو پسند کرتا ہوں۔اور یہ بدعت نہیں کہ قبروں پر کتبے لگائے جاویں۔ اس سے عبرت ہوتی ہے اور ہر کتبہ جماعت کی تاریخ ہوتی ہے۔ہماری نصیحت یہ ہے کہ ایک طرح سے ہر شخص گورکے کنارے ہے کسی کو موت کی اطلاع مل گئی اور کسی کو اچانک آجاتی ہے یہ گھر ہے بے بنیاد۔ بہت سے لوگ ہوتے ہیں کہ ان کے گھر بالکل ویران ہو جاتے ہیں۔ایسے واقعات کو انسان دیکھت اہے۔ جبتک مٹی ڈالتا ہے دل نرم ہوتا ہے۔پھر دل سخت ہو جاتا ہے یہ بدقسمتی ہے ؎ٰ۔
۲۶؍دسمبر ۱۹۰۵ء
ایک الہام اور اس کی لطیف تشریح
یاقمر یا شمس انت منی وانامنک
(ترجمہ) اے چاند اے سورج تُو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں
فرمایا :۔
اس الہام میں خدا تعالیٰ نے ایک دفعہ اپنے آپ کو سورج فرمایا ہے اور مجھے چاند اور دوسری دفعہ مجھے سورج فرمایا ہے اور اپنے آپ کو چاند۔ یہ ایک لطیف استعارہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے میری نسبت یہ ظاہر فرمایا ہے کہ میں ایک زمانہ میں پوشیدہ تھا اور اس کی روشنی