ہو۔اسے لکھو کہ وہ دین ی تکمیل کرے، کیونکہ باپ کی ہی روش پر ہونا چاہیے۔ منشی جلال الدین بھی بڑے مخلص تھے اور ان کے ہمنام پیر کوٹ والے بھی۔دونوں میں سے ہم کسی کو ترجیح نہیں دے سکتے۔ سال گذشتہ میں ہمارے کئی دوست جدا ہو گئے۔مولوی جمال الدین سید والا بھی۔مولوی شیر محمد ہو جن والے بھی۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے ارادیہ میں کوئی مصالح رکھے ہوں گے۔ اس سال میں حزن کے معاملات دیکھنے پڑے؎ٰ۔ ۸؍دسمبر ۱۹۰۵ء؁ ایک مثالی قبرستان کی تجویز میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے لیے ایک زمین تلاش کی جاوے جو قبرستان ہو۔ یاد گار ہو اور عبرت کا مقام ہو۔ قبروں پر جانے کی ابتداء آنحضرت ﷺ نے مخالفت کی تھی۔جب بُت پرستی کا زور تھا۔ آخر میں اجازت دے دی۔ مگر عام قبروں پر جاکر کیا اثر ہوگا جن کو جانتے ہی نہیں، لیکن جو دوست ہیں اور پار ساطبع ہیں ان کی قبریں دیکھ کر دل نرم ہوتا ہے۔ اس لیے اس قبرستان میں ہمارا ہر دوست جو فوت ہو اس کی قبر ہو۔میرے دل میں خدا تعالیٰ نے پختہ طور پر ڈال دیا ہے کہ ایسا ہی ہو۔ جو خارجاً مخلص ہو اور وہ فوت ہو جاوے اور اس کا ارادہ ہو کہ اس قبرستان میں دفن ہو۔ وہ صندوق میں دفن کر کے یہاں لایا جاوے۔ اس جماعت کو بہ ہیئت مجموعی دیکھنا مفید ہوگا۔ اس کے لیے اول کوئی زمین لینی چاہیے اور میں چاہتا ہوں کہ باغ کے قریب ہو۔ فرمایا: عجیب مؤثر نظارہ ہوگا جو زندگی میں ایک جماعت تھے مرنے کے بعد بھی ایک جماعت ہی نظر آئے گی۔یہ بہت ہی خوب ہے ۔جو پسند کریں وہ پہلے سے بندوبست کر سکتے ہیں کہ یہان دفن ہوں۔ جو لوگ صالح معلوم ہوں ان کی قبریں دور نہ ہوں ۔ریل نے آسانی کا سامان کر دیا ہے اور اصل تو یہ ہے ما تدری نفس بای ارض تموت (لقمان : ۳۵) مگر اس میں یہ کیا لطیف نکتہ ہے کہ