۷؍دسمبر ۱۹۰۵ء
وفات کے متعلق الہامات
فرمایا :
اﷲ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہے۔ وہی بہتر جانتا ہے۔ پانچ چھ روز سے یہی متواتر الہام ہو رہا ہے۔ انسان جن چیزوں کی بابت تمنا کرتا ہے ان کی بابت چاہتا ہے کہ معلوم ہوں۔جن سے کراہت کرتا ہے چاہتا کہ وہ نا معلوم ہوں۔مگر عادت اﷲ یہ نہیں کہ وہ انسانی خواہشات کی پیروی کرے۔مجھے پانچ چھ روز سے فجر کے قریب یہ الہام ہوتا ہے۔
قرب اجلک المقدر
آج اس کے ساتھ یہ بھی تھا
واخر دعونا ان الحمد لﷲ رب العالمین۔
انبیاء علیہم السلام کے متعلق سُنت اﷲ یہی ہے کہ وہ تخم ریزی کر جاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق صحابہؓ کا خیال غلط نکلا۔وہ یہی سمجھتے تھے کہ آنحضرت ﷺ سب کو فتح کرینگ ے۔ انہوں نے آپؐ کی وفات کو قبل از وقت سمجھا، مگر ابو بکرؓ کی فراست صحیح تھی۔
طلع البدر علینا من ثنیات الوداع۔ مولوی عبد الکریم صاحب کے متعلق جو الہام ہوا تھا ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ اب نصرتِ الٰہی ظاہر ہو۔ میرا مذہب یہی ہے کہ طولِ امل کے طور پر کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ انبیاء علیہم السلم جس قدر آئے ہیں وہ تخم ریزی کر جاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے عرب میں اشاعت اسلام کی اور ان میں سے بھی بعض اسلمنا میں داخل تھے۔ یہ گویا تخمریزی تھی۔
وفات پا جانیوالے چند اصحاب کا ذکر خیر
مولوی برہان الدین صاحب کے متعلق فرمایا کہ :
وہ اول ہی اول ہو شیار پور میں میرے پاس گئے۔ ان کی طبیعت میں حق کے لیے ایک سوزش اوجلن تھی۔ مجھ سے قرآنشریف پڑھا۔ بائیس برس سے میرے پاس آتے تھے۔ صوفیانہ مذاق تھا۔ جہاں فقراء کو دیکھتے وہیں چلے جاتے۔ میرے ساتھ بڑی محبت رکھتے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ ماتم پرسی کے لیے لکھ دوں۔ بہتر ہے کہ ان کا جو لڑکا ہو وہ یہاں آجاوے۔تاکہ وہ باپ کی جابجا