مدرسہ کی حالت دیکھ کر دل پارہ پارہ اور زخمی ہو گیا۔ علماء کی جماعت فوت ہو رہی ہے۔ مولوی عبد الکریم کی قلم ہمیشہ چلتی رہتی تھی۔ مولوی برہان الدین فوت ہو گئے۔ اب قائم مقام کوئی نہیں۔ جو عمر رسیدہ ہیں ان کو بھی فوت شدہ سمجھئے۔ دوسرا جیسا کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تقویٰ ہو۔ اس کی تخم ریزی نہیں۔ یہ اﷲ ہی کے ہاتھ میں ہے؛ ورنہ اچھے ئدمی مفقود ہو رہے ہیں۔ آریہ زندگی وقف کر رہے ہیں۔ یہاں ایک طالب علم کے منہ سے بھی نہیں نکلتا۔ ہزارہا روپیہ قوم کا جو جمع ہوتا ہے وہ ان لوگوں کے لیے خرچ ہوتا ہے جو دنیا کا کیڑا بنتے ہیں ۔یہ حالت تبدیل ہو کر ایسی حالت ہو کہ علماء پیدا ہوں۔علم دین میں برکت ہے۔ اس سے تقویٰ حاصل ہوتی ہے۔ بغیر اس کے شوخی بڑھتی ہے۔ نبوی علم میں برکات ہیں۔ لوگ جو روپیہ بھیجتے ہیں لنگر خانہ کے لیے یا مدرسہ کے لیے۔ اس میں اگر بے جا خرچ ہوں تو گناہ کا نشانہ ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ نے تدبیر کرنے والوں کی قسم کھائی ہے۔ فالمد برات امرا (النزعت : ۶) تو ایسے آدمیوں کی ضرورت سمجھتا ہوں جو دین کی خدمت کریں۔ میرے نزدیک زبان دانی ضروری ہے۔ انگریزی پڑھنے سے میں نہیں روکتا۔ میرا مدعا یہ ہے اور میں نے پہلے بھی سوچا ہے اور جب سوثا ہیمیرے دل کو صدمہ پہنچا ہے کہ ایک طرف تو زندگی کا اعتبار نہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ کی وحی قرب اجلک المقدر سے ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرا اس مدرسہ کی بنا سے غرض یہ تھی کہ دینی خدمت کیلئے لوگ تیار ہو جاویں۔ یہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے۔پہلے گذر جاتے ہیں۔دوسرے جانشین ہوں۔ اگر دوسرے جانشین نہ ہوں تو قوم کے ہلاک ہونے کی جڑ ہے۔ مولوی عبدالکریم اور دوسرے مولوی فوت ہو گئے اور جو فوت ہوئے ہیں اُن کا قائم مقام کوئی نہیں۔دوسری طرف ہزار ہاروپیہ جو مدرسہ کے لیے جاتا ہے پھر اس سے فائدہ کیا؟ جب کوئی تایر ہو جاتا ہے تو دنیا کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ اصل غرض مفقود ہے۔ میں جانتا ہوں جبتک تبدیلی نہ ہوگی کچھ نہ ہوگا۔ جو اﷲ تعالیٰ کی جماعت روحانی سپاہیوں کے تیار کرنے والے تھے وہ نہیں رہے دور چلے گئے ہیں۔ ہمیں کیا غرض ہے کہ قدم بقدم ان لوگوں کے چلیں جو دنیا کے لیے چلتے ہیں؎ٰ