مردوں سے استفاضہ ایک شخص نے سوال کیا کہ زندگی میں کسی مردے سے تعلق ہو یا مرید کا اپنے پیر سے ہو۔ کیا وہ بھی اس سے فیض پا لیتا ہے؟ فرمایا :۔ صوفی تو کہتے ہیں کہ انسان مرنے کے بعد بھی فیض پاتا ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ زندگی میں ایک وائرہ کے اندر محدود ہوتا ہے اور مرنے کے بعد وہ دائدہ وسیع ہو جاتا ہے اس کے سب قائل ہیں؛ چنانچہ یہانتک بھی مانا ہے کہ حضرت عیسیٰ جب آسمان سے آئیں گے تو چونکہ وہ علوم ِ عربیہ سے ناواقف ہوں گے، کیا کریں گے؟ بعض کہتے ہیں کہ وہ علوم ِ عربیہ پڑھیں گے اور حدیث اور فقہ بیھ پڑھیں گے۔بعض کہتے ہیں کہ یہ امر تو ان کے لیے موجب عار ہے کہ وہ کسی مولوی کے شاگرد ہوں۔اس لیے مانا ہے کہ آنحضرت ﷺکی قبر میں بھیٹھیں گے اور وہاں بیٹھ کر استفا ضہ کریں گے۔ مگر اصل میں یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ مگر اس سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ قبور سے استفاضہ ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ امر بطریق شرک نہ ہو جیسا کہ عام طو رپر دیکھا جاتا ہے۔ وارِ فانی فرمایا: ہماری نصیحت یہی ہے کہ ہر شخص گور کے کنارے بیٹھا ہے۔یہ الگ امر ہے کہ اﷲ تعالیٰ کسی کو اطلاع دیدے اور کسی کو اچانک موت آجاوے۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ گھر ہے بے بنیاد۔بہت سے لوگ دیکھے ہیں کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گھر کے سارے آدمیوں کو مٹی میں دبایا اور اولادوں کو دفن کیا مگر کچھ ایسے سخت دل ہوتے ہیں کہ وہ موت ان پر اثر نہیں کرتی اور تبدیلی ان میں نہین پائی جاتی۔ یہ بدقسمتی ہے۔ یہ تماشہ سلاطین کے ہاں بہت دیکھا جاتا ہے۔لاکھوں لاکھ خون ہو جاتے ہیں اور ان پر کوئی اثر نہیں۔ مساکین سے مال لیتے ہیں او رخود عیش کرتے ہیں۔ بڑی بھاری غفلت کا نمونہ ان کے ہاں دیکھا جاتا ہے۔